حلقہ (۳)

مسلمان شخص کی کھجور کے درخت کے ساتھ تشبیہ

عن ابنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ تُشْبِهُ أَوْ كَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ, لَا يَتَحَاتُّ وَرَقُهَا, وَلَا, وَلَا, وَلَا, تُؤْتِي أُكْلَهَا كُلَّ حِينٍ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ, وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَا يَتَكَلَّمَانِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ, فَلَمَّا لَمْ يَقُولُوا شَيْئًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ النَّخْلَةُ. فَلَمَّا قُمْنَا قُلْتُ لِعُمَرَ: يَا أَبَتَاهُ وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ وَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ. فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَكَلَّمَ؟ قَالَ: لَمْ أَرَكُمْ تَكَلَّمُونَ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ أَوْ أَقُولَ شَيْئًا, قَالَ عُمَرُ: لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا.(1)

ابن عمر رضی اللہ عنہماب یان کرتے ہیں کہ ہم  رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےدریافت فرمایا: ‘‘اچھامجھ کوبتلاؤ وہ کون سادرخت ہے جو مسلمان کی مانندہے جس کےپتےنہیں گرتے، ہر وقت میوہ دےجاتاہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہماکہتے ہیں میرے دل میں آیاوہ کھجورکادرخت ہےمگرمیں نےدیکھاکہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بیٹھےہوئے ہیں انہوں نے جواب نہیں دیا تو مجھ کو ان بزرگوں کےسامنےکلام کرنااچھا معلوم نہیں ہوا۔ جب ان لوگوں نےکچھ جواب نہیں دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا وہ کھجورکادرخت ہے۔ جب ہم اس مجلس سےکھڑےہوئے تو میں نےاپنے والد عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: ابا جان! اللہ کی قسم! میرے دل میں آیاتھاکہ میں کہہ دوںوہ کھجورکادرخت ہے۔ انہوں نےکہاپھر تو نےکیوں نہیں کہا۔ میں نےکہا:آپ لوگوں نےکوئی بات نہیں کی میں نےآگےبڑھکر بات کرنا مناسب نہ جانا۔ انہوں نےکہا: اگر تو اس وقت کہہ دیتا تو مجھ کواتنےاتنے (لال لال اونٹ کامال )ملنےسےبھی زیادہ خوشی ہوتی’’۔

مفردات کی شرح:

 (لَا يَتَحَاتّ وَرَقهَا) :یعنی: اسکے پتے نہیں جھڑتے اور گرتے ہیں(2)

 و"(لَا)" مُكَرَّر: اور لا مکرّ ر آیا ہے ،یعنی: اسے یہ یہ نہیں  لاحق ہوتا، نفی کو تین بار بطور اکتفا کے ذکر کیا گیا ہے۔ اور  اسکی تفسیر میں  یوں کہا گیا ہے: اور نہ اسکاپھل منقطع ہوتا ہے ، اور نہ ہی اسکا سایہ  مٹتا ہے، اور ہی اسکا نفع  ختم ہوتا ہے۔ اور نفی کے معمول کو بطور اکتفا  کے حذف کردیا گیا ہے’’۔(3)

بندہ مومن اور کھجور کے درخت کے درمیان شباہت کی وجہ:

حافط ابن حجررحمۃ اللہ علیہ نے  فتح الباری میں فرمایا ہے:’’کھجور کے درخت کی برکت اسکے تمام اجزاء میں پایا جاتا ہے،اور تمام اوقات میں جاری رہتا ہے، اسکے شروع سے لے کر سوکھنے تک مختلف طریقے سے اسے کھایا جاتا ہے، اور پھر اسکے تما م اجزاء سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے،یہاں تک کہ اسکی گٹھلی کو  چوپایوں کے چارے اوراسکی  پتّیوں کو بطور رسّی کے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اسکے علاوہ دیگر فائدے جو کسی پر مخفی نہیں ہیں۔اور اسی  طرح مسلمان شخص کی برکت تمام احوال میں عام رہتی ہے اور اسکا نفع اسکے لئے اور اسکے علاوہ کے لئے موت کے بعد تک جاری رہتا ہے‘‘۔(4)

حدیثسے حاصل ہونے والے فائدے(5):

۱۔ اس حدیث  میں علم   کی سمجھ حاصل کرنے پررغبت دلایا گیا ہے۔

۲۔اس میں حیا کا استحباب ہونا ثابت ہوتا ہے جب تک کہ وہ کسی مصلحت کو فوت نہ کرنے والا ہو، اسی لئے عمر رضی اللہ  عنہما نے اس بات کی  تمنا کی تھی کہ کاش! ان کے بیٹے نے خاموشی نہ اختیار کی ہوتیـ

۳۔اور اس میں کھجور کے درخت اور اسکے میوے  کی برکت کا پتہ چلتا ہے۔

۴۔اور اس میں   مزید تفہیم کے لئے ،اور معانی  کی تصویر کشی کے لئے مثالوں اور  نظائر کا بیان ہوا ہے ،تاکہ ذہنوں میں معانی راسخ ہوجائیں،اور حادثہ  کے حُکم    میں غور  کرتے وقت فکر کو تیز کیا جاسکے۔

۵۔اور اس میں اس بات کا اشارہ  ہے کہ ایک چیز کی دوسری چیز سے تشبیہ دیتے وقت یہ لازم نہیں آتا کہ وہ تمام وجہوں سے اسکے ہم مثل ہو،کیونکہ  جمادات (بے جان چیزوں) میں سے کوئی بھی چیز مومن کے مثل وبرابر  نہیں ہوسکتی ہے۔

۶۔ اور اس میں بڑے کا احترام کرنا ہے، او ر چھوٹے کا اپنے باپ کو قول میں  مقدّم کرنا ہے، اور اس بات کا بیان ہے کہ وہ جو کچھ سمجھا ہے اس  کی طرف  جلدی  نہیں کرے گا اگرچہ اسکا گمان ہو کہ وہی درست ہے۔

۷۔اور اس میں اس بات کا بیان کہ بسا اوقات  بڑے عالم پر بعض وہ چیزیں مخفی رہ جاتی ہیں جسے ان سے کمتر جانتا ہے؛ کیونکہ علم وہبی چیز ہے ، اور اللہ جسے چاہتا  ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے

حواشی:

(1) صحيح البخاري، برقم: ( 4698).

(2) شرح صحيح مسلم للنووي، 17/ 155.

(3) فتح الباري شرح صحيح البخاري، 1/ 146.

(4) فتح الباري شرح صحيح البخاري للعسقلاني، 1/ 145.

(5) فتح الباري شرح صحيح البخاري للعسقلاني، 1/ 146- 147.

 

 

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث