حلقہ (۲)

   ذکر کی اہمیت وفضیلت

 

حضرت نعما ن بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : دعاء  ہی عبادت  ہے(1).

اور صحیحین میں   ہے اور لفظ مسلم کے ہیں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  نے  رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ:اےرسول اللہ! مجھےایسی دعا سکھائیے جو  میں اپنی نماز  میں کیاکروں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاکہ یہ پڑھاکرواےاللہ!  میں نےاپنی جان پربہت ظلم کیا اور تیرےسواگناہوں کو اور کوئی نہیں بخشتا۔ پس میرےگناہ اپنےپاس سے بخش دے۔ بلاشبہ تو بڑامغفرت کرنے والا ،بڑا رحم کرنے والا ہے۔(2).

بریدہ  رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ رسول اللہصلیاللہعلیہ وسلم نےایک شخص کوکہتے سنا: »اللهم إني أسألك أني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت، الأحد، الصمد، الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد”«اےاللہ! میںتجھ سےمانگتاہوں اس وسیلےسےکہ:  میں گواہی دیتاہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرےسواکوئی اور معبود نہیں، تو تنہا اور ایسابےنیازہے جس نےنہ تو جنا ہے اور نہ ہی وہ جنا گیاہے اور نہ اس کاکوئی ہمسرہےیہ سن کرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ”تو نےاللہ سے اس کاوہ نام لےکرمانگاہےکہ جب اس سےکوئی یہ نام لےکرمانگتاہے تو عطا کرتاہے اور جب کوئی دعا کرتاہے تو قبول فرماتاہے۔(3).

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نےبیان کیاکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آنحضرت صلی اللہعلیہ وسلم نےفرمایا:کہ اللہ کی قسم میں دن میں ستر مرتبہ سےزیادہ اللہ سے استغفار اور اس سےتوبہ کرتاہوں۔(4).

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سو بار»:رب اغفر لي وتب علي، إنك أنت التواب الغفور«اےمیرے رب! مجھے بخش دے، میری توبہ قبول کر، تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور بہت زیادہ بخشنے والا ہےکہنےکو شمار کرتےتھے۔(5).

اور  ذکر،دعا اور استغفار کے سلسلے میں بہت ساری آیات واحادیثیں موجود  ہیں۔

 

 

حواشی:

 (1) الترمذي تفسير القرآن (3247)، أبو داود الصلاة (1479)، ابن ماجه الدعاء (3828)، أحمد (4/267). اور علامہ البانی نے اسے صحیح کہا ہے، دیکھیں: صحيح الجامع، برقم: (3407).

(2) البخاري الأذان (799)، مسلم الذكر، والدعاء، والتوبة، والاستغفار (2705)، الترمذي الدعوات (3531)، النسائي السهو (1302)، ابن ماجه الدعاء (3835)، أحمد (1/4).

 (3) الترمذي الدعوات (3475)، أبو داود الصلاة (1493)، ابن ماجه الدعاء (3857)، أحمد (5/350). اور علامہ البانی نے اسے صحیح کہا ہے، دیکھیں: صحيح الترغيب والترهيب، برقم: (1640).

 (4) البخاري الدعوات (5948)، الترمذي تفسير القرآن (3259)، ابن ماجه الأدب (3816)، أحمد (2/341).

 (5) الترمذي الدعوات (3434)، أبو داود الصلاة (1516)، ابن ماجه الأدب (3814).اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث