حلقہ(۳)

ذکر کے فوائد

 

ذکر کے بہت زیادہ فوائد ہیں، امام ابن القیّم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی  عظیم کتاب (الوابل الصيب من الكلم الطيب)میں ذکر کے بہت فائدے  ذکر کئے ہیں، اور ان میں سے سب سے اہم وبڑا فائدہ   بیان کیا ہے، کہ انسان اپنے دشمن  ابلیس اور اسکے مددگاروں سے صرف ذکر کے ذریعہ ہی بچ سکتا ہے، اور اس پر دشمن صرف غفلت کے دروازے سے ہی داخل ہوسکتے ہیں۔

اور انہیں فوائد میں سے :

اللہ کے ذکر سے شیطان دور ہوتا ہے، رب خوش ہوتا ہے، غم دور  ہوتا   ہے، خوشی   حاصل ہوتی ہے، قلب وبدن کو طاقت پہنچتی ہے اور انہیں زندگی ملتی ہے، اور چہرہ  اور دل روشن ہوتا ہے، اور رزق حاصل ہوتی ہے، اور ذکر کرنے والے کی ہیبت ہوتی ہے، اور اسے اللہ کی وہ محبت  حاصل ہوتی ہے جو کہ اسلام کی روح ہے، اور اسے اپنے رب کی مراقبت  ملتی ہے، اور اسکی طرف انابت کی توفیق  ہوتی ہے، اور وہ اللہ سے قریب ہوتا ہے ، اور اپنے رب کی حقیقی معرفت  نصیب ہوتی ہے، اور ذکر سےاللہ کی  ہیبت پیدا ہوتی ہے، اور وہ اللہ کا ذکر کرنے والا ہوتا ہے، اور شد ت کے وقت  اسکی معرفت حاصل ہوتی ہے، اور   ذکر  سے اللہ  اور بندہ کے درمیان وحشت ختم ہوجاتی ہے۔ اور ذکر گناہوں کو مٹادیتا ہے، اور عذاب الہی سے نجات دیتا ہے۔

      اور ذکر سکینت نازل کرنے ، رحمت کے ڈھانپنے کا سبب ہے، اور اس لئے کہ فرشتے ذکر کرنے والے کو ڈھانپ لیتے ہیں،  اور زبان اللہ کے حرام کردہ باتوں سے محفوظ  رہتی ہے۔

ذکر بندہ کے حق میں رحمت الہی کے اسباب  میں سے   ہے، اور اس کی دعاکے قبول کے ذرائع میں سے ہے، اور جب دعا سے پہلے اللہ کی حمد وثنا  ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے  اتنا بہتر نوازتا ہے جو سوال کرنے والوں  کو دیتا ہے۔

اور  ذکر پر ہمیشگی  ومداومت  سے بندہ اپنے رب کو بھولنے سے محفوظ رہتا ہے، اور انسان کا اپنے رب کو بھول جانا  اسکی رزق اور آخرت میں بدبختی کا   سبب بنتا ہے،  اور اللہ کو بھولنے کا ذریعہ  بنتا ہے،  ارشاد باری تعالیٰ ہے:

((وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا قَالَ كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنسَى)) [طه: 124- 126].

‘‘اور(ہاں) جومیری یاد سے روگردانی کرےگا اس کی زندگی تنگی میں  رہے گی، اور ہم اسے بروز  قیامت اندھا کرکےاٹھائیں گے۔وہ کہے گا کہ الہی مجھےتونے اندھابناکرکیوں اٹھایا؟حالانکہ میں تو دیکھتا بھالتا تھا۔(جواب ملے گا کہ) اسی طرح ہونا چاہیے تھا تو میری آئی ہوئی آیتوں کو بھول گیا  تو آج تو بھی بھلا دیا جاتا ہے’’۔

ابن القیّم رحمۃ اللہ علیہ آیت کا معنی میں فرماتے ہیں کہ: یعنی: جس نے میری کتاب سے اعراض کیا، اسکی تلاوت نہ کی، اور نہ اس میں تدبر   سے  کام لیا، اور نہ اس پر عمل کیا، اور نہ اسے سمجھا تو اس کی زندگی اور معیشت صرف تنگ وتاریک اور عذاب والی ہوگی۔

اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے منافقین کی یہ وصف بیان کی ہے کہ وہ اللہ کابہت کم ذکر کرتے ہیں، پس اللہ کا کثر ت سے ذکر کرنا نفاق سے محفوظ ہونے کا سبب ہے۔

اور ابن القیّم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ: اللہ کی محبت اور اسکی معرفت اور ہمیشگی سے اس کا ذکر ،اور اسکی طرف سکون لینا، اور اس سے طمانینت حاصل کرنا، اور محبت ،خوف، رجاء، توکل، معاملہ کو اللہ کے لئے خالص کرنا اس طور سے کہ وہی بندوں کے غموں،ان کے عزائم اور   ارادے پر مستولی وقابض ہو یہ دنیا کی جنت ہے اور ایسی نعمت ہے جس کے ہم مثل کوئی نعمت نہیں ،   اور یہی محبین کے آنکھوں کی ٹھنڈک اور عارفین کی زندگی ہے۔

اور ذکر یہ آسان ترین عبادات ہے، اور سب سے بہترین وافضل عمل ہے جسے بندہ کرتا ہے حالانکہ وہ اپنے بستر پر، بازار میں، راستہ میں، اورصحت وبیماری کی حالت میں ہوتا ہے۔

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ: رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر حالت میں اللہ کا ذکر کرتے تھے، (اسے مسلم، ابو داود نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے روایت کیا ہے)۔

اور ذکر دنیا میں ذکر کرنے والے کے لئے نور ہوتا ہے، اور اسکی قبر میں ، اور  آخرت میں، اور یہ بندے کے ایمان کے مضبوطی  کے اعتبار سے ہوتا ہے، اور اس کا نور اس کے دل میں اسکے اعمال اور اقوال ہوتے ہیں۔

اور دل میں کچھ ضرورتیں ہیں جسے ذکر الہی پوری کرسکتی ہیں،ذکر ہی دل کو نیند اور غفلت سے بیدار کرسکتا ہے اور اسکی سختی کو پگھلا سکتا ہے ، اور اس کی بیماریوں سے شفا دلا سکتا ہے۔

اور ذکر کرنے والا اپنے رب سے قریب ہوتا ہے، اور اس کا رب اس کے ساتھ ہوتا ہے، اس کو قرب ،ولایت، محبت، توفیق کے ذریعے خاص معیت حاصل ہوتی ہے، اور یہ معیت علم واحاطہ کے علاوہ ہوتی ہے۔

ارشاد باری ہے:: ((إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا)) [النحل: 128]. یقین مانو  کہ اللہ تعالی پرہیزگاروں  کے ساتھ ہے ((واللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ)) [البقرة: 249]. اور اللہ تعالی صبرکرنے والوں  کے ساتھ ہے۔ ((وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ))[العنكبوت:69]. اور بیشک اللہ نیک کاروں  کے ساتھ ہے’’۔

اور اللہ کا ذکر اس کے شکر کی طرح  ہے، اور جس نے اللہ کا ذکر نہیں کیا اس نے اس کا شکر نہیں کیا۔ اور وہ دونوں سعادت وفلاح کی جامع ہیں:

((فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ))[البقرة: 152].

‘‘اس لئے تم میراذکرکرو، میںبھیتمہیںیادکروںگا، میریشکرگزاریکرو اور ناشکریسےبچو’’۔      

اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے بندوں میں سے سب سے عزیز پرہیز گار لوگ ہیں، جن کےزبان ہمیشہ ذکر الہی سے تروتازہ رہتے ہیں۔

تو جب بندہ اپنے رب سے اس کی امر ونہی میں ڈرے گا، اور اس کے ذکر کو اپنا شعار بنائے گا، تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا، اورجہنم سے نجات دے گا، اور وہ اپنے رب کا قریبی بندہ ہوجائے گا۔

اورذکر وہ بہترچیز ہے جس سے اللہ کی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں، اور اس کے ذریعہ اللہ عزوجل کی سزائیں دور ہوتی ہیں۔

اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے فرشتے اللہ کی کثرت سے ذکر کرنے والوں اور صبح وشام اس کی پاکی بیان کرنے والوں پر رحمت ومغفرت کی دعائیں کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالی انہیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے۔

((يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا * وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا * هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا)) [الأحزاب: 41-43].

‘‘مسلمانو! اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت زیاده کرو، اور صبح وشام اس کی پاکیزگی بیان کرو، وہی ہے جو تم پر اپنی رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں) تاکہ وه تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جائے اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے’’۔

اور اللہ عزوجل کا ذکر ان بڑی چیزوں میں سے ہے جس کے ذریعہ بندہ اپنے رب کی اطاعت پر مدد حاصل کرتا ہے، اس طور پر کہ وہ اسے اس کے نزدیک پسندیدہ کردیتا ہے، اور اس پر آسان کردیتا ہے۔ چنانچہ عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول ! بے شک اسلام کے احکام مجھ پر بہت زیادہ ہوگئے ہیں، تو مجھے کسی ایسے چیز کے بارے میں خبر دار کردیجئے جسے میں لازم پکڑوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری زبان ہمیشہ ذکر الہی سے تر رہےـ

امام ابن قیّم رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایسے چیز کی طرف رہنمائی کی جو اسے اسلام کی شرائع ، اس کی حرص، اور اسے کثرت سے کرنے پر ابھارتی ہے ، چنانچہ جب وہ اللہ کے ذکر کو شعار بنا لے گا، تو اسے محبت کرے گا، اور اس چیز سے محبت کرے گا جو اسے محبت کرتا ہے، اور اس کے نزدیک شرائع اسلام سے زیادہ تقرّب حاصل کرنے والا کوئی چیز پسندیدہ نہیں ہوگا۔

اور اللہ کا ذکر دل کی خوفناکی کو دور کرتا ہے، اورذکر کی خوف کرنے والے کے لئے امن حاصل کرنے میں عجیب وغریب تاثیر ہے، اس طور پر کہ اس کے اپنے رب کے ذکر  اور اس پر قوی ایمان رکھنےکے مطابق خوف دور ہوجاتا ہے، اور ذکر کی فضیلت میں صرف یہی کافی ہے کہ ذکر کرنے والے ہی غیروں پر جو آخرت کے متلاشی ہیں سبقت کرنے والے ہیں:(سبق المفردون).جیساکہ حدیث میں ہےکہ مفردّون لوگ سبقت وبازی لے گئے( اور ان سے اللہ کا بکثرت ذکر کرنے والے مرد وعورت مراد ہیں)۔

 

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث