حلقہ(۴)

                                    ذکر کی قسمیں 

 

امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ ذکر کی دو قسمیں ہیں:

۱۔ اللہ کے اسماء وصفات  کاذکرکرنا اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ پر ثنا کرنا، اور اسے  اس چیز سے منزہ قرار دینا جو اس کے شایان  شان کے لائق نہیں ہے، چاہے وہ ذکر کرنے  والے  کی  طرف سے  اللہ سبحانہ وتعالیٰ پر ثنا کرنے کی وجہ سے ہو، یا اس کی طرف سے اللہ ک ے بارے   میں اس کی اسماء وصفات کے احکام کے سلسلے  میں خبر دینے کی وجہ سے ہو،اس چیز کے ساتھ  جس کے ذریعہ اس نے اپنے نفس کی تعریف کی ہے، اور جس چیز کے ذریعہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعریف کی ہے، بغیر کسی تحریف وتعطیل، اور بغیر کسی تشبیہ وتمثیل کے۔

۲۔اس کے امر ونہی  اور اس کے احکام کا تذکر ہ کرنا، چاہے اس کے بارے میں اس چیز کی  خبر دینے سے ہو جس کا اس نے حکم دیا ہے، یا جس سے روکا ہے، یا بندے کی طرف سے  اس کے رب کے اوامر ونواہی کو بجالانے سے  ہو۔

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی تعظیم سے اس کے امرو نہی کی تعظیم  اور اس کی تابعداری لازم آتی ہے، اور یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس رسالت کا متقاضی ہے جس کے ذریعہ مومن  اپنے رب کو پہچانتا ہے،  چنانچہ اس کی اپنے رب  کے امرونہی کی تعظیم  اس اللہ کی تعظیم پر دلالت کرنے والی ہوگی جو امر ونہی کا مالک ہے۔

ابن قیّم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : جب ذکر کرنے والے کے لئے یہ تمام قسمیں جمع ہوجائیں، تو اس کا ذکر سب سے بہتر اورسب سے عظیم تر فائدہ مند ذکر ہوگا۔

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث