حلقہ(۱)

پہلی حدیث

نماز کے لئے طہارت شرط ہے

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 ( لا يقبل الله صلاة أحدكم إذا أحدث حتى يتوضأ)

" اللہ تعالیٰ حدث(وضو ٹوٹنے) کی حالت میں تم میں سے کسی کی نماز نہیں قبول فرماتا یہاں تک کہ وہ وضو کرلے"۔ (۱)

اور ایک روایت میں ہے کہ ، حضرموت  کے ایک آدمی نے کہا: اے  ابو ہریرہ ؓ حدث  کیا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا: (فساء أو ضراط) ’’(شرمگاہ سے) آواز یا بلا آواز کے نکلنی والی ہوا‘‘۔

ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ:  (لا تقبل صلاة بغير طهور) "  بغیر  وضوکے کوئی نماز نہیں قبول ہوتی" ۔(۲)

یہ حدیث جو کہ طہارت کے باب میں اصل ہے متعدد " وقفات "  پر مشتمل ہے ، جنہیں ہم درج ذیل طریقے پر تفصیل سے پیش کررہے ہیں۔

پہلا وقفہ: 

 اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول  (لا يقبل)  یاء کے فتحہ کے ساتھ ہے ،   اورشریعت میں قبول کا مطلب : ثواب کا حاصل ہونا ،  جیسا کہ علا مہ ابن ملقن نے کہا ہے۔

اورحافظ ابن حجر – رحمہ اللہ - کہتے ہیں کہ:" قبول کی حقیقت  کا ثمرہ ایسی طاعت کا واقع ہونا جو کافی ہو، اور ذمہ داری کو ختم کرنے والی ہو، 000 اور جب  اس کے شروط کے ساتھ لانا کافی ہونے  کا گمان بنا ، جس کا ثمرہ قبول ہے، تو اسے ( لفظ )قبول سے مجازا تعبیر کیا گیا۔ اور  رہی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول:" جو کسی عرّاف کے پاس آئے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی" میں منفی  قبول کی  تو اس سےحقیقی مراد ہے؛ کیونکہ بسا اوقات عمل صحیح ہوتا ہے، لیکن کسی مانع کی وجہ سے قبولیت سے پیچھے رہ جاتی ہے۔ اسی لئے بعض سلف کہتے تھے: ’’اگر میری ایک نماز قبول ہوجائے تویہ میرے نزدیک تمام دنیا سے بہتر ہے‘‘۔،اسے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا ہے۔، (ابن حجر) نے کہا: یہ اس  لئے  کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 (إنما يتقبل الله من المتقين).

  " بے شک اللہ تعالیٰ متقیوں کے اعمال کو قبول فرماتا ہے " ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی بات ختم ہوئی۔

دوسرا وقفہ:

  آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)  کا قول : (إذا أحدث)  یعنی جب اسے حدث لاحق ہو،اور یہ   نقض وضوسے عبارت ہے ۔ اور اس کی تفسیر ابو ہریرہ – رضی اللہ عنہ – نے اس کی ایک نوع سے کی ہے ، چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ : (فساء أو ضراط) ، (فساء أو ضراط) " (شرمگاہ سے) آواز یا بلا آواز کے نکلنی والی ہوا ہے"۔

حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ : : (شبيهاً بالأف على الأغلظ؛ ولأنهما قد يقعان في أثناء الصلاة أكثر من غيرهما).اهـ.

"  فُساء"  سختی کے طور پر اُف سے مشابہ قراردیتے ہوئے، اور اس لئے کہ یہ دونوں نماز کے دوران دیگر اوقات کے بنسبت زیادہ واقع ہوتے ہیں" ۔ اھ۔

ورنہ حدیث تو حدث اکبر جیسے جنابت ،حیض اور نفاس کو شامل ہے، اور حدث اصغر کو بھی شامل ہے،جیسے دونوں راستوں سے خارج ہونے والے،  چاہے  یہ حدث اختیاری طور پر ہو، یا  اضطراری طور پر۔جیسا کہ  اس  کی تفصیل  ان  شاء اللہ  عنقریب آئے گی ۔

تیسرا وقفہ:  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان(حتى يتوضأ)،’’یہاں تک کہ وضو کرلے‘‘،

 علامہ ابن الملقّن رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: قبولیت کی نفی ایک غایت تک ہے ۔اور یہ وضوء۔ہے ، اور غایت کے بعد کی چیزاپنے سے ما قبل کی مخالف ہے۔ اس لئے وضوء کے بعد مطلق طور پرنماز کی قبولیت  کا متقاضی ہوئی اهـ، ۔

اور وضوء وضاءت سے ہے، اور وہ حسن ونظافت ہے، اور یہ واو کے ضمّہ کے ساتھ فعل وضو کے معنی میں ہوتا ہے، اور واو کے فتحہ کے ساتھ: وضو کے پانی کو کہا جاتا ہے۔

ابن حجر ‑رحمہ اللہ ­– کہتے ہیں کہ : " آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول:( يتوضأ) یعنی اس سے مراد:پانی اور جو اس کے قائم مقام ہو ۔

 اور  امام نسائی نے قوی سند کے ساتھ ابو ذر ‑رضی اللہ عنہ – سے مرفوعا روایت کیا ہے  : (الصعيد الطيب وضوء المسلم) "پاک مٹی مسلمان کا وضوء ہے " ،

چناچہ شارع( علیہ الصلاۃ والسلام) نے تیمم پر وضوء کا اطلاق کیا  ، کیونکہ وہ اس کا قائم مقام ہے " اھ۔

اس سے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے فرمان کو سمجھے: یہاں تک کہ وضو کرلے  اگر پانی پائے، یا تیمم کر لے اگر پانی نہ کو نہ پائے۔

چوتھا وقفہ:  

اس حدیث سے اہل علم نے استنباط کیا ہے کہ طہارت نما ز کی شرطوں میں سے ایک شرط ہے ،  اور اس کے بغیر نما ز نہیں قبول کی جاتی ہے ۔

امام نووی – رحمہ اللہ – کہتے ہیں کہ ‑ :

"  یہ حدیث  نماز کے لئے طہارت کے وجوب پر نص( صریح )ہے ، اور امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ نماز کی صحت کے لئے طہارت شرط ہے " اھ۔

 لیکن یہ سوال پیداہوتا ہے کہ آیا یہ وضوء ہر نماز قائم کرنے والے کے لئے فرض ہے ، یعنی ہر وہ شخص جو نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو اس کے لئے وضوء کرنا لازم ہے ، یا یہ صرف حدث والےکے لئے  فرض ہے ؟

اہل علم  کے اقوال  میں سے درست بات یہ  ہے کہ  وضو صرف محدث شخص کے لئے ضروری ہے ، لیکن ہر نماز کے لئے اس کا تجدید کرنا مستحب  ہے ۔

امام نووی – رحمہ اللہ ‑  کہتے ہیں کہ :

’’اسی پر اہل فتویٰ کا اجماع ہے ،  اور ان کے مابین اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں  ہے‘‘اھ۔

پانچواں وقفہ:  

اہل علم حضرات نے  اس حدیث  سے حدث لاحق ہونے کی صورت میں نماز کے باطل  ہو نے کا استدلال کیا ہے ، چاہے  یہ حدث اصغر ہو یا اکبر ، چاہے اس کا خروج اختیاری طور پر ہو، یا اضطراری ، کیو نکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حدیث میں) دونوں حدثوں کے مابین  یا ایک حالت میں دوسرے حالت کے سوا کوئی فرق نہیں کیا ہے ، لہذا حدث لاحق ہونے والےکی نماز باطل ہو جائے گی اور اس پر وضو  کرنا واجب ہو گا۔

چھٹا وقفہ:

اہل علم حضرات  کا اجماع ہے کہ بغیر طہارت کے نماز حرام  ہے ، اور جس نے ایسا کیا وہ گنہگار ہو گا ، اور اپنے نفس کو منکر  امر کا مرتکب بنائے گا ۔

امام نووی – رحمہ اللہ – فرماتے ہیں کہ : (وأجمعت الأمة على تحريم الصلاة بغير طهارة من ماء أو تراب، ولا فرق بين الصلاة المفروضة والنافلة، وسجود التلاوة، والشكر، وصلاة الجنازة، إلا ما حكي عن الشعبي، وابن جرير الطبري من قولهما تجوز صلاة الجنازة بغير طهارة، وهذا مذهب باطل، وأجمع العلماء على خلافه، ولو صلى محدثاً متعمداً بلا عذر أثم) اهـ.            

’’ تمام امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ بغیر طہارت کے نماز حرام ہے ، چاہے طہارت پانی سے حاصل کیا ہو یا مٹی سے ، اور(اس میں) فرض نماز،نفل ، سجدۂ تلاوت ، سجدۂ شکر ، اور نماز جنازہ کے مابین کوئی فرق نہیں ہے ،  مگر اس سلسلے میں "  شعبی اور ابن جریر طبری "   سے یہ منقول ہے کہ بغیر طہارت کے بھی جنازہ کی نماز جائز ہے  ، یہ مذہب باطل ہے ، اور تمام علماء کا  اس کے خلاف اجماع ہے ، اور اگر کسی  شخص نے( بغیرکسی عذر کے) جان بوجھ کر حدث کی حالت میں نماز پڑھ لیا  تو وہ گنہگار ہو گا‘‘  اھ ۔

پھرانہوں نے فرمایا:’’ اور یہ(حکم) اس صورت میں ہے جب حدث سے نماز پڑھنے والے کے لئے کوئی عذر نہ ہو، جہاں تک رہی بات معذور شخص کی جو نہ پانی پاتا ہو اور نہ ہی مٹی ، تو اہل علم کےاقوال میں سے سب سے قوی دلیل یہ ہے کہ وہ نماز پڑھے گا ، اور اس پر قضاء واجب نہیں ہو گا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ:

(إذا أمرتكم بأمر فافعلوا منه ما استطعتم)

’’جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اسے حسب استطاعت بجالاؤ‘‘ اھ۔

ساتواں وقفہ:   

یہ حدیث اسلام میں طہارت کی اہمیت پر دلالت کرتی ہے ، کیونکہ نماز‑ جو اسلام کے ارکان میں سے دوسرا  اہم رکن ہے – اسکی قبولیت کے لئےاحداث سے طہارت حاصل کرنا ضروری قرار دیا  ہے ، اور حدث کی حالت میں نماز پڑھنے  والے کو گنہگار ٹہرایا ہے ، اور اسلام نے جس طرح ظاہری طور پر جسم کی  صفائی و ستھرائی کو مشروع قرار دیا ہے ،  اسی طرح اس نے مسلمان پر اپنے باطن کی صفائی کو واجب ٹہرایا ہے،تاکہ اللہ   ۔سبحانہ وتعالیٰ – سے ‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎ظاہری اور باطنی طہارت کے ساتھ ملا قات کرے ۔

وضوء  اور طہارت کی اہمیت و فضیلت  کے بیان میں، اور ان دونوں پر مرتّب ہونے والے اجر کے سلسلے میں متعدد نبوی نصوص وارد ہوئےہیں ، چناچہ اس سلسلے میں ابو ہر یرہ – رضی اللہ عنہ – کی روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ :

میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ :                                             (إن أمتي يدعون يوم القيامة غراً محجلين من آثار الوضوء، فمن استطاع منكم أن يطيل غرته فليفعل)

’’میری امت کے لوگ وضو کے نشانات کی وجہ سے قیامت کے دن سفید پیشانی کی شکل میں بلائے جائیں گے۔ تو تم میں سے جو کوئی اپنی چمک بڑھانا چاہتا ہے تو وہ بڑھا لے (یعنی وضو اچھی طرح کرے)‘‘۔

غرّۃ سے مراد: چہرہ کی سفیدی  ہے، اوراصل  میں گھوڑے کے چہرہ  میں پائی جانے والی  سفیدی کو (غرّۃ)کہتے ہیں۔ چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ بیان کر رہے ہیں کہ بے شک مومنین قیامت کے دن  اس حال میں آیئں گے کہ ان کے چہرے وضوء کے اثر سے روشن اور سفید ہوں گے ۔

اور اسی سے متعلق عثمان – رضی اللہ عنہ – کی روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (من توضأ فأحسن الوضوء خرجت خطاياه من جسده، حتى تخرج من تحت أظفاره)

’’جس نے وضوء کیا ، اور اپنے وضوء کو خوب اچھی طرح سے کیا ، تو اس کی غلطیاں اس کے جسم سے نکل جاتی ہیں یہاں تک کہ اس کے ناخنوں سے نکل جاتی ہیں ‘‘ ۔

اور نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ :

(ما من امرئ يتوضأ فيحسن وضوءه إلا غفر له ما بينه وبين الصلاة الأخرى حتى يصليها).       ’’ جو شخص وضوء  کرتا ہے اور اپنے وضوء کو اچھی طرح سے کرتا ہے ، تو ایک نماز سے دوسرے نماز کے درمیان جو بھی (صغیرہ) گناہ ہوتے ہیں ،معاف کر دیئے جاتے ہیں‘‘۔

منذری نے کہا کہ :’’ اس کی سند شیخین کے شرط پر ہے‘‘۔

 

 

 

 

 

 

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث