حلقہ (۲)

دوسری حدیث

وضوء میں تمام اعضاء کے دھونے کا وجوب

 

عبداللہ بن عمرو بن عاص ، ابو ہریرہ اور عائشہ – رضی اللہ عنہم ‑  سے روایت ہے کہ  اللہ کے رسول ‑صلی اللہ علیہ وسلم ‑  نے فرمایا ‑:(ويل للأعقاب من النار).

 ’’(خشک)ایڑیوں کے لئے جہنم کی تباہی  ہے‘‘ ۔ (۱)

یہ حدیث آپ – صلی اللہ علیہ و سلم – کے جوامع کلم میں  سے ہے ، اور یہ حدیث بہت بڑے  فوائد پر مشتمل ہے ، آنے والے وقفات میں اختصار کے ساتھ اس کے فوائد کو  تحریر کیا جا رہا  ہے :

 پہلا وقفہ:  

اس حدیث کا ایک خاص سبب ہے  ،  جیسا کہ امام بخاری ، اور مسلم  نےعبداللہ بن عمرو – رضی اللہ عنھما – سے  روایت کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب پہنچے۔ تو عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا یا تنگ ہو گیا تھا ،تو ہم (جلدی جلدی) وضو کرنے لگے، اور اپنے پاؤں پر(پانی سے لگے ہاتھ) کو پھیرنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا کہ: (خشک ) ایڑیوں کے لئے جہنم کی تباہی ہو۔ یہ دو مرتبہ فرمایا یا تین مرتبہ۔ ۔(صحیح بخاری، باب العلم ،حدیث :۶۰)

اور مسلم کی ایک روایت میں ، عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں : ’’  کہ ہم اللہ کے رسول – صلی اللہ علیہ و سلم  ‑کے  ساتھ " مکہ "  سے " مدینہ"   واپس ہوئے ،  یہاں تک کہ راستہ میں ایک پانی کے پاس پہنچے  تو ایک قوم نے عصر کی نماز کے لئے جلدی کیا ، چنانچہ  ان لوگوں نے جلد بازی میں وضوء کیا ،   (جب)ہم ان کے پاس پہنچے ، تو(دیکھا) ان کی ایڑیاں چمک رہی تھیں ،  ان تک پانی نہیں پہنچا تھا ، تو  آپ  ‑صلی اللہ علیہ وسلم‑  نے فرمایا: (ويل للأعقاب من النار، أسبغوا الوضوء).

 ’’(خشک ) ایڑیوں کے لئے جہنم کی تباہی ہو،وضو پوری طرح سے کرو ‘‘۔

اور امام مسلم نے ابو ہریرہ – رضی اللہ عنہ – سے روایت کیا ہے کہ اللہ کے نبی – صلی اللہ علیہ و سلم – نے ایک  آدمی کو  دیکھا جس نے اپنے دونوں ایڑیوں کو نہیں دھویا تھا ، تو  آپ نے فرمایا : : (ويل للأعقاب من النار).

’’ (خشک ) ایڑیوں کے لئے جہنم کی  تباہی ہو‘‘۔

دوسرا وقفہ: 

آپ ۔صلی اللہ علیہ وسلم ۔ کا قول-: (ويل) یہ کلمہ ان مصادر میں سے ہے جن کے افعال نہیں ہوتے ہیں ، اور اسی کے مثل:"ویح"ہے ، یہاں پر یہ کلمہ(ویل) نکرہ غیر معینہ ہے ۔

حافظ ابن حجر – رحمہ اللہ‑ کہتے ہیں :

’’ نکرہ سے ابتدا کرنا  جائز  ہے ، کیونکہ یہ دعا ہے  ، جہاں تک رہی بات اس کے معانی کی  تو اس سلسلے میں متعدد اقوال وارد ہیں :

 ۱۔یہ کلمۂ عذاب ہے ، ۲۔ کلمۂ حزن  ہے،۳۔ اور کلمۂ ہلاک  ہے ،

۴۔ اور یہ بھی کہا  گیا ہےکہ : یہ  جہنمیوں کا پیپ ہے ،اور ان میں سے سب سے ظاہر یہ ہے کہ : یہ جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ جیسا کہ ابن حبان نے اپنے صحیح میں ابو سعید کی حدیث سے مرفوعا  روایت کی ہے : (ويل واد في جهنم) اهـ

 ’’  ویل  جہنم کی ایک وادی کا نام ہے‘‘ ۔

ایک روایت میں اضافہ کیا گیا ہےکہ : (لو أرسلت فيه الجبال لماعت من حرّه).

’’   اگر اس میں پہاڑ  کو چھوڑ دیا جائے ، تو اس کی گرمی سے پگھل جائے‘‘ ۔

تیسراوقفہ:

آپ  کا قول (الأعقاب) جمع ہے عقب کی ، اس کا معنی : پَیر کا آخری حصہ ، اور ہر چیز کاعقب اس کا  آخر ہوتا ہے ،اور مراد: ایڑی والے لوگ ۔

مسلم کی ایک روایت میں آیا ہے: (ويل للعراقيب من النار) ، یہاں " عراقیب"  

" عرقوب"  کی جمع ہے ، جس کا مطلب : انسان کی ایڑی کے اوپر کا پٹھا ۔

حدیث میں ایڑیوں کو  آ گ میں  ڈالنے کی بات خصوصیت کے ساتھ اس لئے بیان کیا گیا ہے کیو نکہ عام طور پر اس کو نہیں دھویا  جاتا ہے ۔

اور (اعقاب) میں (لام ) عہد کے لئے ہے ، جس کا مطلب : وہ ایڑیاں جن کو پانی نہیں پہنچا ۔

امام بغوی  رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : ’’اس کا معنی یہ  ہے کہ ویل ہو ان ایڑیوں والوں کے لئے جو اس کے دھونے میں کوتاہی سے کام لیتے ہیں ‘‘۔

چوتھا وقفہ:

یہ حدیث وضوء کی حالت میں تمام اعضاء کو  دھونے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے ، اگر ان میں سے کچھ حصہ چھوٹ جائے تو اس شدید وعید  سے کفایت کرنے والا نہیں ہو گا جورسول ۔اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ نے اپنے پیروں کے ایڑیوں کو  نہ دھونے   والوں کے لئے دی ہے۔

پانچواں وقفہ :  

اہل علم نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ ترک غسل کی صورت میں ان دونوں کا چمکتے ہوئے دکھائی دینا ضروری ہے ، بلکہ حدیث کے کچھ سندوں میں آیا  ہے  جیسا کہ آ پ – صلی اللہ علیہ وسلم ‑ کا فرمان ہے -: (أسبغوا الوضوء، ويل للأعقاب من النار)

’’ وضوء کو پوری طرح سےکرو، اور (خشک ) ایڑیوں کے لئے جہنم کی آ گ ہے‘‘ ۔

امام نووی‑ رحمہ اللہ ‑ فرماتے ہیں : (ولو أن المسح كافياً لما تواعد من ترك غسل عقبيه) ’’  اگر (صرف) مسح کرنا ہی کافی ہوتا تو ایڑیاں نہ دھونے والوں کو دھمکی نہ دی جاتی‘‘ ۔

اور دونوں پیروں کا دھونا  ہی آ پ – صلی اللہ علیہ و سلم – کے قول و فعل سے منقول ہے ، بر خلاف  ان لوگوں کی جو مسح کرنے ، یا غسل اور مسح کے مابین اختیار دینے کی بات کرتے ہیں۔

 اور اسی سے متعلق شیخین نے حمران مولیٰ عثمان بن عفان ‑رضی اللہ عنہ ‑ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے عثمان ‑رضی اللہ عنہ ‑کو دیکھا کہ: انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر برتن سے پانی(لے کر)ڈالا۔ پھر دونوں ہاتھوں کو تین دفعہ دھویا۔ پھر اپنا داہنا ہاتھ وضو کے پانی میں ڈالا۔ پھر کلی کی، پھر ناک میں پانی ڈالا، پھر ناک صاف کی۔ پھر تین دفعہ اپنا  چہرہ   دھویا اور کہنیوں تک تین دفعہ ہاتھ دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر اپنے دونوں پاؤں کو تین دفعہ دھویا۔ پھر فرمایا :میں نے رسول اللہ ‑صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ  نے میرے وضوء کی طرح وضوء  فرمایا۔

اور اس کے علاوہ  بہت ساری حدیث ہیں۔

چٹھا وقفہ:

کچھ اہل علم نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ دوران وضوء انگوٹھی کا نکالنا واجب ہے ، چناچہ امام بخاری – رحمہاللہ – نے اس حدیث کو اپنے اس قول :( باب: غسل الأعقاب )سے ترجمہ با ندھا ہے ،  اور ابن سیرین جب وضوء کرتے  تھے تو انگوٹھی باندھنے کی جگہ کو دھوتے تھے ۔

حافظ ابن حجر – رحمہ اللہ –  نے ذکر کیا ہے کہ ان سے صحیح اسناد کے ساتھ مروی ہے کہ جب وہ وضوء کرتے تھے تو اپنے انگوٹھی کو ہلاتے تھے ۔

ابن حجر کہتے ہیں: کہ یہ اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ (انگوٹھی) اتنی ڈھیلی ڈھالی ہو کہ اس کو ہلانے سے اس کے نیچے پانی پہنچ جائے"۔اھ۔

اس مسئلہ سے اکثر لوگ غافل ہیں ، لہذا اس سے آ گاہی ضروری ہے ۔

ساتواں وقفہ :

اس حدیث سے کچھ اہل علم نے استدلال کیا ہے کہ گناہ صغیرہ ، یا جو لوگوں کی نظروں میں بہت معمولی دکھائی دیتا ہے ، اس پر عذاب دیا جائے گا ، کیونکہ کچھ لوگ ایڑی  نہ دھونے کو معمولی امرسمجھ رہے تھے ، اس کے باوجود اللہ کے رسول‑ صلی اللہ علیہ وسلم –  نے اس کی وجہ سے " ویل " کی دھمکی دی ہے ،اور ویل : جہنم میں ایک وادی ہے ۔

آٹھواں وقفہ :

  اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ جاہل کو تعلیم دینا یا سکھانا ، اچھی باتوں کا حکم دینا ، اور منکر اور ناپسندیدہ چیزوں سے روکنا واجب ہے ، کیونکہ اللہ کے رسول­ ‑ صلی اللہ علیہ و سلم – نے ان جلد باز لوگوں کو دیکھا کہ انھوں نے اپنے ایڑیوں کو نہیں دھویا ہے ، تو       آ پ خاموش نہیں  رہے ، بلکہ بلند آ واز سے صدا لگائی کہ : (ويل للأعقاب من النار)، ’’  جہنم کی آ گ ہو (خشک) ایڑیوں کے لئے ‘‘۔،بلکہ آ پ  ‑صلی اللہ علیہ و سلم ‑کی یہ یہی حالت تھی، کہ آپ معلم ، مربی ، اللہ کی طرف دعوت دینے  والے، اچھی باتوں کا حکم دینے اور منکر اور برُی باتوں سے  روکنے والے تھے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت ایسے حادثات ووقائع سے بھر پور ہےجو اس چیز پر دلالت کرتی ہے۔

 

 

 

 

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث