حلقہ (۳)

تیسری حدیث

 

طہارت کے آداب

 

ابو ہریرہ – رضی اللہ عنہ ­–  سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول‑ صلی اللہ علیہ وسلم – نے فرمایا کہ: (إذا توضأ أحدكم فليجعل في أنفه ماءً، ثم ليستنثر، ومن استجمر فليوتر، وإذا استيقظ أحدكم من نومه فليغسل يديه قبل أن يدخلهما في الإناء ثلاثاً، فإن أحدكم لا يدري أين باتت يده).

 ’’جب تم میں سے کوئی وضو ءکرے تو اسے چاہیے کہ اپنی ناک میں پانی ڈالے ،پھر (اسے)صاف کرے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے چاہیے کہ طاق عدد  (یعنی ایک یا تین)سے استنجاء کرے ،اور جب تم میں سے کوئی سو کر اٹھے، تو برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اسے دھو لے۔ کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ رات کو اس کے ہاتھ نے کہاں گزارا ‘‘ ۔

اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ : (فليستنشق بمنخريه من الماء)،

 ’’چاہیے کہ وہ اپنے ناک میں پانی چڑھائے  یا ڈالے‘‘۔

اور ایک لفظ یہ ہے: (من توضأ فليستنشق).

 ’’  جو وضوء کرے تو اسے چاہئے کہ ناک میں پانی  چڑھائے‘‘۔

یہ بہت  عظیم حدیث ہے ، اس میں بہت  زیادہ فوائد  ہیں ، ذیل کے سطور میں اس کو چند وقفات  کی روشنی میں پیش کر رہا ہوں :

پہلا وقفہ:

اللہ کے رسول – صلی اللہ علیہ و سلم – کا قول  -: (إذا توضأ)  یعنی: جب وضوء کرنے کا ارادہ کرے۔

ابن حجر – رحمۃ اللہ  علیہ– کہتے  ہیں کہ : (إذا شرع في الوضوء). ’’ جب وضوء کرنا شروع کرے‘‘۔

دوسرا وقفہ:

آپ کا یہ قول: (فليجعل في أنفه ماءً، ثم ليستنثر)

 ’’ چاہیے کہ اپنی ناک میں پانی دے ،پھر (اسے)صاف کرے‘‘ ۔

 کچھ روایتوں میں (پانی)  کا ذکر نہیں آیا ہے ،  یہ اس لئے کہ وہ چیز معلوم تھی ،یہی وجہ ہے کہ کچھ اہل علم نے کہا ہے کہ : اس میں مفعول کو حذف کرنا جائز  ہے جب کلام اس پر دلالت کرے۔

جہاں تک رہی بات آ پ کا یہ قول : (ليستنثر) ’’ ناک میں پانی ڈال کر صاف کرنا یا جھاڑنا ‘‘  اور   ایک روایت میں : (لينتثر) ہے  ۔ استنثار سے مراد: ناک میں پانی ڈال کر پانی نکالنا  یا جھاڑنا ۔

استنشاق سے مراد: ناک کے اندرونی حصہ میں سانس کے ذریعہ  پانی  کو کھینچنایہاں تک کہ خیشوم تک پہنچ جائے ۔

یہی مکمل اسستنشاق ہے ، اور جسے بعض   حدیثوں میں مبالغہ  سے تعبیر کیا گیا ہے ، جیسا کہ آ پ – صلی اللہ علیہ و سلم ‑ کے قول  میں ہے جس کو اربعہ نے روایت کیا ہے : - (وبالغ في الاستنشاق، إلا أن تكون صائماً),’’ یعنی  ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرو  مگر یہ کہ تم  روزہ سے ہو ‘‘۔

وضوء میں ناک میں پانی ڈالنے اور باہر  نکالنے کا حکم:

اس حدیث کے ظاہری امر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وضوء کرتے وقت ناک میں پانی ڈالنا اور باہر نکالنا واجب ہے اور یہی مذہب حنبلی کا مشہور مسلک ہے ، اور اسی کو اکثر اہل علم نے راجح قرار دیا ہے ، ان ہی میں سے امام شوکانی – رحمہ اللہ – ہیں  ، اور انھوں نے اس مذہب کی تائید میں متعدد دلیلیں ذکر کی ہیں ۔

۱۔ان میں سے ایک حدیث : سلمۃ بن قیس کی ہے کہ نبی ‑  صلی اللہ علیہ و سلم – نے فرمایا : (إذا توضأت فانتثر) ’’  جب تم وضوء کرو تو ناک سے پانی جھاڑو ‘‘۔

۲۔ ابو ہریرہ – رضی اللہ عنہ – سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول – صلی اللہ علیہ وسلم – نے ارشاد فرمایا : (إذا استيقظ أحدكم من نومه فليستنثر ثلاث مرات، فإن الشيطان يبيت على خياشيمه) ’’ جب تم میں سے کوئی اپنے نیند سے بیدار ہو تو تین بار ناک  جھاڑے ، کیو نکہ  شیطان اس کے خیشوم میں رات گزارتا ہے ‘‘۔

۳۔ اور ایک روایت میں ہے کہ: (إذا استيقظ أحدكم من منامه فتوضأ فليستنثر) ’’جب تم میں سے کوئی اپنے نیند سے بیدار  ہو تو  وضوء کرے اور  اپنے ناک میں پانی ڈال کر جھاڑے‘‘ـ

۴۔لقيط بن صبرہ سے روایت ہے کہ اللہ کے  رسول – صلی اللہ علیہ و سلم – نے ایک لمبی حدیث میں فرمایا : (وبالغ في الاستنشاق، إلا أن تكون صائما) ’’  کہ ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرو ، مگر یہ کہ تم روزہ سے ہو ‘‘  ۔

امام بغوی، ابن قطان اور نووی  وغیرہ نے اسے صحیح قرار  دیا ہے ، اور امام ترمذی نے اسے : " حسن صحیح " کہا ہے ۔

یہ اور اس کے علاوہ کی حدیثیں   وضوء میں ناک میں پانی ڈالنے اور ناک سے پانی جھاڑنے کے امر پر دلالت کرتی ہیں ، اور اس وجوب سے کوئی پھیرنے والا نہیں ہے ، اور اس کومزید  تقویت   اس بات سے ہوتی ہے کہ یہ دونوں  چہرہ کے دھونے کے تکملہ میں سے ہیں اور یہ(چہرہ کا غسل) واجب ہے ، اور پھر یہ کہ بعض جن لوگوں نے آ پ – صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء کے اوصاف کو بیان کیا ہے اس میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کو ذکر  کیا ہے ۔

اہل علم کے ایک فریق کا کہنا ہے کہ وضوء اور غسل میں  ناک میں پانی ڈالنا  سنت ہے ۔

ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ : وضوء میں سنت ہے اور غسل میں واجب ہے ، آیت وضوء سے استدلال کرتے ہوئے ، کہ اس میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا ذکر نہیں ہے ، اسی  طرح انھوں نے دیگر اور حدیثوں سے استدلال کیا ہے لیکن ہماری ذکر کردہ حدیثوں  کی سندوں اور دلالتوں کی مخالفت کی طاقت نہیں رکھتی ہیں۔

        لہذا  ان تمام دلیلوں سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ وضوء  کے اندر ناک میں پانی ڈالنا اور ناک سے پانی جھاڑنا  واجب ہے۔

کامل استنشاق کی صفت :

  استنشاق کا  مکمل طریقہ یہ کہ  اپنے داہنے ہاتھ میں پانی لیکر  کلی کرے ، پھر نا ک کے اندر پانی ڈال کر بایئں ہاتھ سے نا ک کو پکڑ کر پانی باہر نکا لے ،  اسی طرح تین بار  کرے ،  جیسا کہ عثمان – رضی اللہ عنہ – کی حدیث میں اللہ کے نبی – صلی اللہ علیہ و سلم ­– کے وضوء کرنے کا طریقہ موجود ہے ، اس حدیث میں ہے کہ ۔۔ : (ثم أدخل يمينه في الوضوء، ثم تمضمض، واستنشق، واستنثر) متفق عليه

’’ پھر اپنا داہنا ہاتھ وضو ءکے پانی میں ڈالا۔ پھر کلی کی، پھر ناک میں پانی دیا، پھر ناک ناک جھاڑا ‘‘(متفق علیہ)  

اور علی – رضی اللہ عنہ ­– کی  حدیث میں ہے کہ : (فأدخل يده اليمنى في الإناء فملأ فمه، فتمضمض، واستنشق، ونثر بيده اليسرى، يفعل ذلك ثلاثاً).  ’’ پھر  آ پ نے داہنے ہاتھ کو برتن   میں ڈالا ، اور اپنے  منہ کو (پانی سے) بھرا، پھر کلی کیا، پھر   ناک کے اندر پانی چڑھایا  ، اور بایئں ہاتھ سے پکڑ کر ناک جھاڑا اور صاف کیا ، اور اس طرح سے آ پ نے تین بار کیا‘‘  ۔ 

تیسرا  وقفہ  :

 استنشاق واستنثار(ناک میں پانی ڈال کر صاف کرنے) کے فوائد:

ناک میں پا نی ڈال کر جھاڑنے سے  ناک کی صفائی اور نظافت حاصل ہو تی ہے ، اور اللہ کے رسول – صلی اللہ علیہ وسلم ‑ نے اس کو  فطرت میں سے شمار کیا ہے ،  چناچہ امام مسلم  وغیرہ نے  عائشہ – رضی اللہ عنہا – سے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول –صلی اللہ علیہ وسلم – نے ارشاد فرمایا  : : ( عشر من الفطرة: قص الشارب، وإعفاء اللحية، والسواك، واستنشاق الماء، وقص الأظافر، وغسل البراجم - وهي رؤوس الأصابع بعد تقليم الأظافر - ونتف الإبط، وحلق العانة، وانتقاص الماء أي الاستنجاء به؛ لأن الماء يقطع البول ويرده)

’’  دس چیزیں فطرت میں سے ہیں ، ۱۔ مونچھ کاٹنا ، ۲۔ داڑھی بڑھانا ،۳۔ مسواک کرنا ،۴۔ نا ک میں پانی ڈالنا، ۵۔ ناخن کاٹنا ، ۶۔ انگلیوں کے پور کو دھونا۔اور یہ ناخن کاٹنے کے بعد انگلیوں کے کناروں کو صاف کرنا۔ ،۷۔ بغل کے بال اکھاڑنا ،۸۔ شرمگاہ کے بال کا  مونڈنا، ۹۔ پانی سے استنجاء کرنا  کیونکہ پانی پیشاب کو کاٹ دیتا ہے ، اور اس کو واپس لوٹا دیتا ہے ‘‘   ۔

بعض راویوں نے کہا کہ : ’’ میں دسویں چیز بھول گیا ، مگر وہ کلّی کرنا ہے‘‘ ۔

ابن حجر – رحمہ اللہ – نے ذکر کیا ہے کہ ناک کو صاف کرنے کے فوائد میں سے  نظافت اور صفائی ہے ، جو پڑھنے میں مدد فراہم کرتا ہے ، کیونکہ سانس لینے کے راستے کی نظافت  کیوجہ سے حروف کے مخارج  صحیح سے (ادا) ہوتے ہے ، اور نیند سے بیدار ہونے والے کے  لئے مزید (فائدہ )یہ ہوسکتا ہے کہ اس سے شیطان کو دھتکارنے میں مدد ملتی ہے ۔

چوتھا وقفہ:

آ پ – صلی اللہ علیہ وسلم ­– کا قول  -: (من استجمر فليوتر)

 ’’ جو پتھر کا استعمال کرے وہ طاق عدد میں کرے‘‘  ۔

استجمار کا مطلب : پیشاب اور پائخانہ کے تمام جگہوں کو پتھر سے پوچھنا اور مسح کرنا، اور جمار چھوٹے چھوٹے پتھروں  کو کہتے ہیں ، اور اسی سے جمار(چھوٹے پتھر) ہیں جن سے حج میں رمی کیا جاتا ہے۔

اور آ  پ کا قول: (فليوتر) ’’  یعنی پتھر کا استعمال  وتر(طاق عدد )میں ہی کرے ، اور  وہ فرد ہے جیسے: تین یا پانچ  وغیرہ ، اور پتھر کا استعمال تین عدد سے کم نہ ہو ، اگر چہ صفائی اس سے کم عدد سے بھی پوری ہو جائے ، اس وجہ  سے کیونکہ اللہ کے نبی – صلی اللہ علیہ و سلم – نے تین سے کم عدد سے استنجا ء کرنے سے منع فرمایا ہے ‘‘  ۔

 پانچواں وقفہ:

جان لو کہ  پتھر کا استعمال پیشاب یا  پا ئخانہ کے بعد  طہارت کے لئے گندگی سے صفائی و ستھرائی حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے ، اور اسلام نے اس سے متعلق تمام دقیق     تفصیلا ت کو بیان کر دیا ہے ۔

امام مسلم  وغیرہ نے سلمان فارسی  ۔رضی اللہ عنہ۔سے روایت کیا ہے ، کہ مشرکین  نے ان سے کہا  کہ :’’  کیا وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ آ پ کے ساتھی ( نبی  صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہیں ساری چیزیں سکھاتے ہیں یہاں تک کہ پیشاب و پائخانہ کا طریقہ بھی ؟ تو انھوں نے کہا : ہا ں ، وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی اپنے داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرے ، یا قبلہ کی طرف رُخ کر کے پیشاب یا پائخانہ نہ کرے ، اوراسی طرح  وہ ہڈی اور گوبر کو استعمال کرنے سے  ہمیں منع کرتے ہیں  اور آ پ نے فرمایا کہ تم سے کوئی تین سے کم پتھروں سے استنجاء نہ کرے‘‘  ۔  

قضائے حاجت کے  چندآ داب :

۱۔ میدان یا عمارت میں قضائے حاجت کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ  اپنے پاس وہ تمام چیزیں نہ رکھے جس میں اللہ تعالی ٰکا ذکر و اذکار ہو  اور خاص طور سے مصحف ۔ جیسا کہ اصحاب سنن  وغیرہ  نے انس – رضی اللہ عنہ – سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے کہا کہ : : (كان النبي - صلى الله عليه وسلم- إذا دخل الخلاء وضع خاتمه)

’’آ پ – صلی اللہ علیہ وسلم – جب بیت الخلاء  میں داخل ہوتے تو اپنی انگوٹھی نکال دیتے تھے‘‘  ۔

امام ترمذی کہتے ہیں کہ :"یہ حدیث  حسن صحیح غریب"  ہے ۔

ا ٓ پ(صلی اللہ علیہ وسلم)  اپنے خاتم ( انگوٹھی  ) کو اس لئے اُ تار دیتے تھے کیو نکہ اس پر : "  محمد رسول اللہ"   نقش کیا ہوا تھا۔ اگرآپ کے پا س ایسی چیز ہو جس میں اللہ کا ذکر ہو اور وہ جیب کے اندر مخفی وپوشیدہ ہو تو ان شاء اللہ اس وقت کوئی حرج نہیں۔

۲۔ قضائے حاجت کے آ داب میں سے ہے کہ  بیت الخلاء کے داخل ہوتے وقت یا اس کے لئے  جاتے وقت داخل ہونے سے کچھ پہلے دعا پڑھے، جیسا کہ جماعۃ نے انس ­– رضی اللہ عنہ – سے روایت کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ : اللہ کے رسول – صلی اللہ علیہ و سلم – جب بیت الخلا ء میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے  تھے : :  

(اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث)

’’اے اللہ ! میں خبیث جنوں اور جنیوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں‘‘ ۔

۳۔ بیت الخلاء میں داخل ہو تے وقت  بایئں پیر کو آ گے بڑھانا چاہیے ، کیو نکہ داہنے سے تکریم  و عزت  والے کام میں ابتدا کی جاتی ہے ،  اور بایئں سے اس کے برعکس  میں ، جیسا کہ بخاری  و مسلم نے حضرت عائشہ – رضی اللہ عنہا­‑ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کہتی ہیں کہ : (كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم- يعجبه التيمن في شأنه كله: في طهوره، وترجله، وتنعله).

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتا پہننے، کنگھی کرنے، وضو کرنے اور اپنے ہر کام میں داہنی طرف سے کرنے کو پسند فرمایا کرتےتھے‘‘ ۔

۴۔  میدان میں قضائے حاجت کرنے  والے کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ لوگوں کی نظروں سے دور چلا جائے ، یا غائب ہو جائے ، اس طرح سے کہ نہ تو کوئی اس کو دیکھ سکے اور نہ ہی اس کی ا ٓواز سن سکے ، اور نہ کوئی اس کی بدبو سونگھ سکے ، اور جس چیز سے بھی ممکن ہو  ستر کرے ، گرچہ  دیوار ہو یا نچلی زمین  وغیرہ سے پردہ کرے۔

بخاری  اور مسلم نے مغیرہ بن شعبہ سے روایت کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں ا ٓپ – صلی اللہ علیہ و سلم ‑ کے ساتھ  تھا ، تو  ا ٓ پ نے فرمایا : (يا مغيرة خذ الإداوة فأخذتها، فانطلق رسول الله - صلى الله عليه وسلم- حتى توارى عني، فقضى حاجته).

’’ اے مغیرہ !(پانی کا) لوٹا  یا چھاگل اُٹھالو ، تو میں نے اس لوٹا کو لے لیا ، پھر اللہ کے رسول – صلی اللہ علیہ و سلم – چلے یہاں تک کہ ہمارے نظروں سے غائب ہو گئے ، اور ا ٓ پ نے اپنی قضائے حاجت پوری کی‘‘  ۔

اوراصحاب سنن وغیرہم نے مغیرہ بن شعبہ ‑رضی اللہ عنہ ­–  سے روایت کیا ہے  کہ :   (أن النبي - صلى الله عليه وسلم- كان إذا ذهب إلى الغائط أبعد).  

’’ اللہ کے نبی – صلی اللہ علیہ و سلم – جب قضائےحاجت کے لئے جاتے تو بہت دور نکل جاتے تھے ‘‘۔ اس کو امام نووی نے : "صحیح قرار  دیا ہے " ۔

۵۔ قضائے حاجت کے ا ٓ داب میں سے یہ بھی ہے کہ پیشاب و پائخانہ کے وقت قبلہ کا نہ تو استقبال کیا جائے اور نہ ہی استدبار کیا جائے ، جمہور اہل علم کے نزدیک (پیشاب و پا ئخانہ ) کرنا میدان  میں جائز نہیں ہے ، جیسا کہ امام مسلم اور امام احمد  وغیرہما نے ابو ہریرہ – رضی اللہ عنہ – سے روایت  کیا ہے کہ اللہ کے نبی – صلی اللہ علیہ و سلم – نے فرمایا :

(إذا جلس أحدكم على حاجته فلا يستقبل القبلة، ولا يستدبرها).

’’   کہ جب تم میں سے کوئی اپنے قضائے حاجت کے لئے بیٹھے تو وہ قبلہ کا نہ تو استقبال کرے اور نہ ہی استدبار کرے‘‘ ۔

جہاں تک رہی بات عمارت اور بلڈنگ کی تو یہ مکروہ ہے ، حرام نہیں ہے ، جیسا کہ شیخین (بخاری ومسلم) وغیرہ نے ابن عمر – رضی اللہ عنہما – سے روایت کیا ہے کہ  انھوں نے فرمایا : (إن ناساً يقولون: إذا قعدت على حاجتك فلا تستقبل القبلة، ورقيت على بيت حفصة - رضي الله عنها- لبعض حاجتي، فرأيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم- يقضي حاجته مستقبلاً الشام، مستدبراً الكعبة).

’’  لوگ کہتے  ہیں کہ : جب تم قضائے حاجت کے لئے بیٹھو تو قبلہ کا استقبال نہ کرو ، اور میں حفصہ – رضی اللہ عنہا‑ کے چھت پراپنی بعض حاجت کے لئے چڑھا ، تو میں نے اللہ کے رسول – صلی اللہ علیہ وسلم ­– کو دیکھا  کہ آ پ کعبہ کی طرف پیٹھ اور شام کی طرف چہرہ کئے  قضائے حاجت پوری کر رہے تھے‘‘ ۔

اسی (حدیث کی ) وجہ سے جمہور اہل علم نے دلیلوں کے مابین تطبیق دیتے ہوئے تحریم کو میدان کے ساتھ خاص قراردیا ہے۔

۶۔ قضائے حاجت کے ضروری  آ داب میں سے یہ ہے کہ  پارکوں ، عوامی یا پبلک جگہوں ، (پنگھٹ )پانی پینے کے گھاٹوں  اور لوگوں کے عام راستوں میں قضاء حاجت نہیں کرنا چاہیے ، جیسا  کہ مسلم  وغیرہ نے  روایت کیا ہے  کہ اللہ کے رسول ‑صلی اللہ علیہ وسلم ­– نے فرمایا  : (اتقوا اللعانين - أي الأمرين الجالبين للعن- ) قالوا: وما اللعانين يا رسول الله؟ قال: (الذي يتخلى في طريق الناس أو في ظلهم).

’’دو ملعون چیزوں سے بچو ، یعنی وہ دو چیزیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں ’’ تو صحابہ نے دریافت کیا : اے ! اللہ کے رسول – صلی اللہ علیہ و سلم – وہ  دو  ملعون چیزیں کون سی ہیں؟ تو  آ  پ نے فرمایا : جو لوگوں کے راستوں یا سایوں میں قضائے حاجت کرے‘‘ ۔

۷۔ قضائے حاجت کے آ داب میں سے ہے  کہ  ایسی جگہوں پر قضائے حاجت نہ کیا جائے  جہاں سوراخ یا شگاف ہو ، جیسا کہ احمد ، ابوداود،اور نسائی نے " حسن سند " کے ساتھ  روایت کیا ہے کہ : (أن النبي - صلى الله عليه وسلم- نهى أن يُبال في الجحر).

’’  اللہ کے نبی – صلی اللہ علیہ و سلم – نے  سوراخ وبِل میں پیشاب کرنے  سے منع فرمایا ہے ‘‘۔ 

اسی طرح ہوا چلنے کی طرف رُخ کر کے پیشاب کرنے  ، اور نہانے کے جگہوں پر پیشاب کرنے کو مکروہ بتایا ہے ،   اسی طرح بغیر کسی عذر کے کھڑے ہو کر پیشاب کرنا بھی مکروہ ہے ۔

چٹھا وقفہ:

پیشاب ، پائخانہ  اور ہر نجس گندی چیز  جو سبیلین سے خارج ہوتی  ہے  اس سے بچنا  اور احتراز کرنا  ضروری ہے ، اور یہ بچاؤ یا تو   پانی  یا پتھر  یا ان دونوں کے قائم مقام سے حاصل ہوتا ہے ، اور اس  بچاؤ کو "  استطابہ"  کا نام دیا جاتا ہے ، کیو نکہ انسان کا نفس خبیث چیزوں کو زائل کرنے  سے خوش ہوتا ہے۔

اور افضل یہ ہے کہ پتھر اور پانی کو جمع کر دیا جائے ،  چنانچہ ابن ماجہ ، دارقطنی ، بیہقی  وغیرہ نے صحیح  اسناد سے جابر ، ابو ایوب اور انس – رضی اللہ عنہم‑ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب  یہ ا ٓیت نازل ہوئی : (فيه رجال يحبون أن يتطهروا..)

’’ اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وہ خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں‘‘ (التوبہ:۱۰۸)

"  تو اللہ کے رسول – صلی اللہ علیہ وسلم – نے فرمایا :

(يا معشر الأنصار قد أثنى الله عليكم في الطهور فما طهوركم)

’’  کہ   اے انصار  کی جماعت !  اللہ تعالی ٰ نےطہارت اور صفائی و ستھرائی  کے بارے میں تمہاری تعریف کی ہے ، تو تمہاری طہارت کیا ہے؟  انھوں نے کہا کہ : ’’  نماز کے لئے ہم وضوء کرتے ہیں ، جنابت سے ہم غسل کرتے ہیں اور پانی سے ہم استنجاء کرتے ہیں  تو ا ٓپ نے فرمایا : (هو ذلك فعليكموه). "  یہی وہ چیز ہے اور اسی کو لازم پکڑو‘‘ ۔

اور جس  طرح پتھر سے استنجاء کرنا کافی ہوتا ہے، اسی طرح  ہر وہ چیز  کافی ہوگا جو اس کے قائم مقام ہو،اور وہ ہر جامد ،پاک ،نجاست کو زائل کرنے والا  غیر موذی  چیز ہے، جس کی نہ تو کوئی حرمت ہو اور نہ ہی اس سے کسی کا حق متعلق ہو ، جیسے : ورقی مندیل ،وغیرہ ۔

طہارت جس چیز سے جائز نہیں ہے:

صفائی ستھرائی ہر اس چیز سے جائز نہیں ہے جو طاہر نہ ہو ، جیسے : گوبر ، نجس پتھر ، وغیرہ ؛  جیسا کہ بخاری وغیرہ نے ابن مسعود  رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ : (أتى النبي الغائط فأمرني أن آتيه بثلاثة أحجار، فوجدت حجرين، والتمست الثالث فلم أجده، فأخذت روثة، فأتيته بها، فأخذ الحجرين، وألقى الروثة، وقال هذا ركس)

’’   نبی ­– صلی اللہ علیہ و سلم ‑ رفع حاجت کے لیے گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ میں تین پتھر تلاش کر کے آپ کے پاس لاؤں۔ لیکن مجھے دو پتھر ملے۔ تیسرا ڈھونڈا مگر مل نہ سکا۔ تو میں نے خشک گوبر اٹھا لیا۔ اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر (تو) لے لیے (مگر) گوبر پھینک دیا اور فرمایا یہ ناپاک ہے‘‘ ۔

امام احمد نے ایک روایت میں اضافہ کیا ہے : (فألقى الروثة وقال: إنها ركس، ائتني بحجر)

 ’’ ) گوبر پھینک دیا اور فرمایا یہ ناپاک ہے ، اور مجھےپتھر لاؤ  ‘‘۔

اور اسی طرح ہڈی سے استنجاء کرنا جائز نہیں ہے ، جیسا کہ امام ترمذی وغیرہ نے ابن مسعود –رضی اللہ عنہ ‑ سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی – صلی اللہ علیہ وسلم ‑  نے فرمایا  : (لا تستنجوا بالروث، ولا بالعظام، فإنه زاد إخوانكم من الجن)

’’ گوبر  اور ہڈی سے استنجاء مت کرو ، کیونکہ یہ تمہارے بھائی  جنوں کا توشہ ہے‘‘ ۔       اور ہڈیوں سے تمام کھانے والی چیزوں کو ملحق کیا جائے گا۔

اسی طرح  اُس چیز سے بھی استنجاء کرنا جائز نہیں ہے جو محل(مقام نجاست) کو نہ صاف کر سکے ، جیسے : شیشہ وغیرہ ، کیونکہ یہ نجاست کو زائل نہیں کرسکتا ہے بلکہ اس کو پھیلا دے گا۔

وہ چیزیں جن سے استنجاء کرنا جائز نہیں ہے

جس کی کوئی حرمت ہو اس سے استنجاء کرنا جائز نہیں ہے ، جیسے : اس میں کوئی محترم  چیز لکھی ہوئی ہو جیسے : شرعی امور  وغیرہ ۔

جہاں تک   رہی بات کہ اگر اس پر غیر محترم چیز لکھی ہوئی ہے تو  اس سے استنجاء مکروہ ہے ،حرام نہیں ۔

اور اسی طرح  پاک سائل چیزوں سے استنجاء  کرنا جائز نہیں ہے ، کیونکہ وہ پاک کرنی والی نہیں ہیں ، اور وہ نجاست کے ملنے سےنجس ہو جاتی ہے۔

ساتواں وقفہ:

اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ پیشاب سے بچنا واجب ہے ، یہاں تک کہ ظن غالب ہو جائے کہ (محلّ نجاست )پر کوئی چیز باقی نہیں بچی ہے ، جیسا کہ شیخین  وغیرہ نے ابن عباس – رضی اللہ عنہ – سے روایت کیا ہے  کہ وہ کہتے ہیں کہ :  اللہ کے نبی – صلی اللہ علیہ وسلم – کا گزر دوقبروں کے پاس سے ہوا تو  ا ٓپ نے فرمایا : (إنهما يعذبان، وما يعذبان في كبير، أما أحدهما فكان لا يستبرئ من البول، وأما الآخر فكان يمشي بالنميمة)،

’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایسی دو قبروں  کے پاس سے ہوا (جن میں عذاب ہو رہا تھا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کو عذاب کسی بہت بڑی بات پر نہیں ہو رہا ہے صرف یہ کہ ان میں ایک شخص پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص چغل خوری کیا کرتا تھا‘‘۔

اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ: (لا يستنزه من البول). ’’ کہ وہ پیشاب سے نہیں بچتا تھا‘‘ ۔

آ ٹھواں وقفہ:

آ پ – صلی اللہ علیہ و سلم – کا قول: (وإذا استيقظ أحدكم من نومه فليغسل يده قبل أن يدخلها في الإناء، فإن أحدكم لا يدري أين باتت يده)

’’ جب تم سے کوئی اپنے نیند سے بیدار ہو تو کسی برتن میں اپنے ہاتھ کو ڈالنے سے پہلے اسےدھو لے ، کیونکہ کوئی نہیں جانتا ہے کہ اس کے ہاتھ نے کہاں رات گزاری ؟‘‘۔

  - فإن أحدكم لا يدري:: یہ علت ہے بیدار ہو نے کے بعد ہا تھ دھونے کی ہے ۔

- باتت يده : علماء نے ذکر کیا ہے کہ مبیت کی حقیقت  رات کے نیند سے ہوتی ہے ، اور اس جملہ میں متعدد مسائل ہیں :

پہلا مسئلہ :

اس جملہ سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ رات کی نیند سے بیدار ہونے والا  شخص  اپنے ہاتھ کو" تین بار"  دھونے سے پہلےاپنے ہتھیلی کو کسی برتن   میں نہ ڈالے  یا  کسی تر  یا   بھیگی چیز کو نہ چھوئے۔ کیونکہ رات کی نیند عام طور پر طویل ہوتی ہے ،  اور اس کا ہاتھ  اس کے جِسم کو پکڑتا ہے ، ہو سکتا ہے کہ  اس کی ناعلمی میں اس کا ہاتھ بعض گندی جگہوں کو چھوا ہو ، اسی لئے شریعت نے   نظافت اور صفائی کے لئے  اس کے دھونے کو مشروع قرار دیا ہے ۔

لیکن اہل علم – رحمہم اللہ – نے اختلاف کیا  ہے اس نیند کے بارے میں جس کےبعد ہاتھ کا دھونا مشروع ہوتا ہے ، آ یا  اس سے مراد : دن  یا  رات  کی  ہرنیند  کے بعد ہے، یا صرف رات کی نیند کے بعد ہاتھ کا دھونا مشروع ہے ؟۔

پہلا قول:

جمہو ر  علماء کے مذہب کے مطابق  ہر نیند کے بعد برتن میں ہاتھ داخل کر نے سے پہلے "تین با ر" د ھویا جائے گا ،  ان لوگوں نے اللہ کے رسول – صلی اللہ علیہ و سلم – کے قول  کے عموم سے استدلال کیا ہے : (إذا استيقظ أحدكم من نومه)  

’’   جب تم میں سے کوئی بھی اپنے نیند سے بیدار ہو‘‘ ۔

دوسرا قول:

یہ مذہب امام احمد ، داؤد ظاہری  کا ہے ۔ ان کے یہاں نوم سے مراد: صرف رات کی نیند  ہے،  ان لوگوں نے اللہ کے نبی – صلی اللہ علیہ و سلم – کے اس قول سے استدلال کیا ہے : (فإن أحدكم لا يدري أين باتت يده)

’’    تم میں سے کوئی نہیں جانتا ہے کہ اس کے ہاتھ نے رات کہا ں گزاری ہے‘‘۔

وجہ استدلال  یہ ہے کہ بیتوتہ(رات گذارنے) کی حقیقت صرف :  رات کی نیند  سے ہوتی ہے ۔ اور اس  کی تائید ترمذی اور ابن ماجہ کی روایت سے بھی ہوتی ہے وہ کہتے ہیں کہ :  (إذا استيقظ أحدكم من نوم الليل).

’’  جب تم میں سے کوئی رات کے نیند سے بیدار ہو‘‘۔

اور یہی قول راجح ہے ۔ واللہ اعلم ۔

کیونکہ وہ حکمت جس کی وجہ سے غسل مشروع کیا گیا ہے وہ غیر واضح ہے ،  بلکہ اس پر تعبدیت غالب ہے ،  اس لئے رات پر دن کو قیاس کرنے  کا کوئی مجال ہی نہیں ،گرچہ نیند کتنی طویل ہو ،  کیونکہ یہ غالب کے خلاف ہے ، اور احکام کا تعلق اغلب پر ہوتا ہے ، اور حدیث  کی ظاہر تخصیص پر دلا لت کرتی ہے ۔

دوسرا مسئلہ :

کیا ہاتھ کا دھونا واجب ہے یا مستحب ؟

اس  بارے میں علماء کے دو رائے  ہیں ، 

لیکن راجح بات یہ ہے ۔اور اللہ ہی بہتر جاننے والاہے۔ کہ ہاتھ کا دھونا واجب ہے ،  حدیث کے ظاہری امر  کے مطابق ، اورا مر  وجوب  پر دلالت کرتا ہے  جب تک کہ اس کا کوئی صارف نہ ہو ، اور یہاں کوئی صارف نہیں ہے" ۔

تیسرا مسئلہ :

بعض اہل علم نے کہا ہے کہ : " یہ حدیث نیند سے بیدار ہونے کے بعد " تین بار"   ہاتھ دھلے  بغیربرتن  میں  ڈالنے کی کراہیت پر دلالت کرتی ہے "۔

چوتھا مسئلہ :

ا ٓ پ کا  فرمان : (فإنه لا يدري أين باتت يده)

 "   یعنی  وہ نہیں جا نتا ہے کہ اس کے ہاتھ نے کہاں رات گزارا " ۔

کچھ اہل علم نے کہا ہے کہ اس عبارت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ  اس جگہ کنایہ اور استعارہ کا  استعمال کیا جائے جہاں صراحت کے ساتھ ذکر کرنے میں شرمندگی ہوتی ہے ،

کیو نکہ آ پ – صلی اللہ علیہ وسلم – نے فرمایا ہے : (لا يدري أين باتت يده)

’’  نہیں معلوم کہ اس کے ہاتھ نے کہاں رات گزاری‘‘۔ 

یہ  نہیں  کہا کہ  شاید  اس کا ہاتھ  اس کے دُبر پر  یا  نجس جگہ گیا ہو ، وغیرہ۔

پانچواں مسئلہ :

کچھ اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ یہ حدیث عبادات وغیرہ میں شک و شبہ کے وقت  احتیاط  اپنانے کے استحباب پر دلالت کرتی ہے   ، جب یہ (شک وشبہ) وسوسہ کی حد تک نہ  نکلے۔

 

 

التعليقات  

#3 Tests nick care, regime topical brim; possible.umuyajibuceyz ٢٣ جمادى الآخرة ١٤٤٠هـ
Amoxicillin No Prescription: http://theprettyguineapig.com/amoxicillin/ Buy Amoxicillin http://theprettyguineapig.com/amoxicillin/
اقتباس
#2 The interphalangeal microbiology gastrostomy utero morphology, neuropathies.ozacemaelelo ٢٣ جمادى الآخرة ١٤٤٠هـ
Amoxicillin: http://theprettyguineapig.com/amoxicillin/ Amoxil http://theprettyguineapig.com/amoxicillin/
اقتباس
#1 Insulin muscles frail, seldom heparinized, downwards.ifewasata ٢٣ جمادى الآخرة ١٤٤٠هـ
Buy Amoxicillin Online: http://theprettyguineapig.com/amoxicillin/ Buy Amoxil 500mg http://theprettyguineapig.com/amoxicillin/
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث