حلقہ(۴)

چوتھی حدیث

ٹہرےہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی مما نعت

 

ابو ہریرہ‑ رضی اللہ عنہ – سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول – صلی اللہ علیہ وسلم ­– نے ارشاد فرمایا: (لا يبولن أحدكم في الماء الدائم الذي لا يجري، ثم يغتسل منه) متفق عليه.

’’ کہ تم میں سے کوئی  ٹہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے ، پھر اس سے غسل کرے ‘‘  (متفق علیہ) ۔

اور مسلم کی ایک روایت میں یہ ہے کہ : (لا يغتسل أحدكم في الماء الدائم وهو جنب).

 ’’  تم میں سے کوئی ٹہرے ہوئے پانی  میں غسل نہ کرے اس حالت میں کہ وہ جنبی ہو‘‘۔

اس  عظیم حدیث میں  پانی کے طہارت کے اہم مسائل  کا  ذکر ہے ، ذیل کے وقفات  میں   ہم اسے تفصیل سے بیان کررہے ہیں۔

پہلا وقفہ:

آ پ – صلی اللہ علیہ وسلم – کا یہ قول : " (لا يبولن) میں " لام"  نہی کے لئے ہے " ۔

آ پ   صلی اللہ علیہ وسلم کا  قول : (الذي لا يجري)  یہ  دائم کی تفسیر ہے ،   جس کا مطلب: جو اپنی جگہ مستقر  اور ٹھرا  ہوا  ہو ، جیسے : پنگھٹ، وکچاتالاب وغیرہ کا پانی... (الغدير: کچا تالاب، جوہڑ(وہ پانی جو سیلاب کے بعد کسی جگہ اکھٹا ہو جاتا ہے) ، چھوٹی نہر،ج غدر،وغُدران)۔

اور  (الذي لا يجري): کاذکر باوجوداس کے کہ یہ دائم کی تفسیر ہے، " راکد "  کے لفظ  سے احتراز کیوجہ سے کہا گیا ہے ،  کیو نکہ  اس کا کچھ حصہ جاری رہتا ہے ۔

دوسرا  وقفہ:  

اس حدیث میں اللہ کے نبی – صلی اللہ علیہ و سلم ­– نے  ٹہرے ہوئے پانی  وغیرہ میں جو جاری نہیں رہتا  ہے پیشاب کرنے سے منع  فرمایا ہے  ، اس نہی میں  بہت بڑی حکمت  پو شیدہ ہے ۔ان میں سے چند یہ ہیں:

۱۔ تاکہ اس (پیشاب) سے پانی نجس اور گندہ نہ ہو ۔

۲۔ اس کی وجہ سے پانی میں آلودگی اور جراثیم   پیدا نہ ہو ۔

۳۔ اور اس نجاست کی وجہ سے لوگوں کے بیچ بیماری نہ پھیلے ۔

تیسرا وقفہ:

اس حدیث سے  یہ بھی استنباط کیا گیا ہے کہ ٹہرے ہو ئے پانی میں غسل کرنا منع ہے ، چاہے پورے جسم کو ڈبویا جائے یا جسم کے کچھ حصہ کو ۔

چوتھا وقفہ:

گزرے ہوئے  بات سے یہ سمجھ میں  آتی ہے کہ جب پانی  جاری ہو تو  اس میں غسل کرنے میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں ہے ، گرچہ خوب ڈوب کر نہایا جائے ، جیسے سمندروں   اور نہر وں  وغیرہ میں ۔ اسی طرح اس میں پیشاب کرنا بھی جائز ہے ، کیونکہ اس نجاست کا اثر باقی نہیں رہتا ہے ، لیکن افضل اور بہتر یہ ہے کہ ان پانیوں میں بھی پیشاب کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے  ، کیونکہ ان پانیوں میں ایک لمبے مدت تک نجاست  کی کثرت سے ضرر اور نقصان کا باعث بن سکتا ہے ۔

پھر یہ کہ ان پانیوں  میں پیشاب کرنا قضائے حاجت کے اسلامی آداب و سلیقہ کے خلاف ہے ۔

پانچواں وقفہ:

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ٹہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا  منع ہے  ،پھر اس سے غسل کرنا  (بھی) ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ نہی تحریم کے لئے ہے اس طور پر کہ اس سے غسل کرنا جائز نہیں ہے، یا کراہت کے لئے ہے ؟   یعنی اگر وہ غسل کرلے تو صحیح ہوگا ، لیکن مکروہ ہوگا؟  

اس سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے ۔

کچھ لوگوں نےکہا  ہے کہ :" یہ مطلق  طور پر کراہت   کے لئے ہے ،اور   یہ مالکیہ کا مذہب ہے" ۔

کچھ لوگوں  کا کہنا ہے کہ:"  یہ تحریم کے لئے ہے ، اور یہ حنابلہ اور ظاہریہ کا مسلک ہے"۔

اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ:"  یہ کم پانی میں حرام ہے  اور زیادہ پانی میں مکروہ ہے"  ۔

اور جو میرے نزدیک  ظاہر ہے۔اور اللہ ہی زیادہ بہتر جاننے والا ہے۔   وہ یہ ہے کہ : " نہی کی ظاہر" تحریم "  کے لئے ہے ، چاہے پانی کم ہو یا زیادہ ،  جیسا کہ اس طرف حنابلہ اور ان کے متبعین گئے ہیں"۔

لیکن اہل علم کے اتفاق سے اس ممانعت  سے سمندر کا پانی خاص ہوجاتا ہے۔چنانچہ وہ اس  ممانعت نہیں شامل ہے۔

چھٹا وقفہ:

کیا وہ پانی جس میں پیشاب کیا جاتا ہے  اس کی طہارت باقی رہتی ہے یا  اس پیشاب سے نجس ہو جاتا ہے ؟۔

جواب:

اس کا جواب نجاست  کے ذریعے تبدیلی کے اختلاف اور عدم اختلاف،اور اس کی قلت وکثرت کے اعتبار سے  مختلف ہوتا ہے۔

اگر نجاست کیوجہ سے اس کا رنگ  یا   ذائقہ  یا   ہوا بدل جائے (یعنی وہ بدبودار ہوجائے)تو اس کے  نجس ہونے میں علماء کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے  ، چاہے پانی کم ہو یا زیادہ ۔

اگر نجاست سے تبدیلی نہ  واقع ہو اور پانی زیادہ ہو تو  اس کے طاہر ہونے میں بھی علماء کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے ، لیکن  اس کثرت کی تحدید میں علماء کی متعدد آراء ہیں ۔

اگر پانی کم ہو اور نجا ست سے تبدیلی  نہ واقع ہو  تو اس سلسلے میں علماء کی دو  رایئں  ہیں :

پہلی رائے:  

 وہ پانی نجس نہیں ہو گا ، اور یہ صحابہ کی کثیر تعداد ، ظاہریۃ  اور مالکیہ  کا مذہب ہے ، اور انھوں نے ابو داؤد اور ترمذی کی  روایت سے دلیل پکڑی ہے اور جسے امام  ترمذی رحمۃ اللہ علیہ  نے حسن قرار دیا ہے ،  کہ اللہ کے رسول – صلی اللہ علیہ وسلم – نے ارشاد فرمایا : (الماء طهور لا ينجسه شيء)

 ’’ کہ پانی پاک ہے ، اس کو کوئی چیز نجس نہیں کر سکتی ہے ‘‘۔  

اور اس قول کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ –رحمہ اللہ ‑نے پسند کیا ہے ۔

 دوسری رائے:

اگر پانی کم ہو تو محض  نجاست کے ملتے ہی ناپاک ہو جائے گا ،  گرچہ  اس میں تبدیلی نہ واقع ہو ، اس  حدیث کے ظاہری نہی کیوجہ سے ، یہ جمہور فقہاء کا مذہب ہے ۔

لیکن درست بات ۔واللہ اعلم۔وہی ہے جو پہلے لوگوں کا مذہب ہے،اور وہ یہ ہے کہ پانی نجس نہیں ہو گا  الا یہ کہ اس کا رنگ  بدل جائے ، یا  اس کا مزہ بدل جائے ، یا  وہ بدبودارہوجائے، گرچہ اس  کا کرنا مکروہ ہے۔جیسا کہ پہلے گزرچکا ہے۔

ساتواں وقفہ:   

اس حدیث سے کچھ اہل علم نے ان تما م چیزوں سے  دوری اپنانے پر دلیل پکڑی ہےجس کی شان میں دوسروں کو تکلیف دینا اوران پر اعتدا ء وزیادتی کرنا پایا جائے،یا وہ چیز جس سے ان کے پانی کو مکدّر کردیا جائے،یا جس سے ان کے غذاء وخوراک کو ناپسندیدہ کردیا جائے،کیونکہ اسلام  پاکی وصفائی کا دین ہے ۔

 

 

 

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث