سنت، نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان اور سلف صالحین کے مفہوم میں  (3ـ 4)

 

 

 

      نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے عہدِ مبارک میں یہ بات مشہور و معروف تھی کہ سنت قرآن کریم کی قرین اور اس کے ساتھ کی ایک چیز ہے، اس بات پر دلالت کرنے والے دلائل حسب ذیل ہیں:

 

 ۱۔ امام مسلم نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’چند لوگ نبی ﷺکے پاس آئے اور عرض کیا: ہمارے ساتھ کچھ آدمی بھیج دیں جو ہمیں قرآن اور سنت کی تعلیم دیں، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے ساتھ ستر انصاریوں کو بھیج دیا ، جنہیں قراء کہا جاتا تھا۔۔۔۔۔)۔ (1)

 

۲۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یمن کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہمارے ساتھ ایک ایسا آدمی بھیج دیں جو ہمیں سنت اور اسلام کی تعلیم دے، راوی حدیث انس رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: (یہ اس  امت کے امین ہیں(2)

 

۳۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا، پس آپ نے ہمارے لیے ہماری سنتوں کو واضح کیا اور ہم کوہماری نماز سکھلائی،  پھرآپ نے فرمایا: ’’جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفوں کو سیدھا کرو، پھر تم میں کا ایک شخص تمہاری امامت کرائے اور جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو۔۔۔۔۔۔ ‘‘ (3)

 

۴۔  رسول اللہ ﷺ  نے  جب معاذ رضی اللہ عنہ کویمن (کا گورنر بنا کر)بھیجا تو آپ ﷺ  نے فرمایا:’’جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے ؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا ، آپ ﷺ نے فرمایا : اگر اللہ کی کتاب میں تم نہ پا سکو تو ؟  تو معاذ  رضی اللہ عنہ  نے عرض کیا : رسول اللہ ﷺ  کی سنت سے فیصلہ کروں گا ، آپ نے فرمایا : اگر رسول اللہ ﷺ کی سنت  اور کتاب اللہ دونوں میں موجود نہ ہو تو ؟  انہوں نے عرض کیا : پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا ، اور اس میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے سینہ پر مارا ، اور آپ نے فرمایا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے رسول اللہ ﷺ کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جو اللہ کے رسول کو راضی اور خوش کرتی ہے۔‘‘ (4)

 

۵۔ عمرو بن شعیب سے روایت ہے وہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ’’رسول اللہ ﷺ  نے ان پانچ چیزوں میں زکاۃ  کومسنون قرار دیا: گیہوں ، جو ، کھجور ، انگور اور مکئی میں‘‘۔(5)

 

۶۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: ’’ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ تین باتوں پر لوگ  ہم پر غالب نہ ہوں: یہ کہ ہم نیکی کا حکم دیں،برائی سے منع کریں، اور لوگوں کو سنتوں کی تعلیم دیں‘‘۔ (6)

 

      سنتِ نبویہ کا یہ مفہوم (کہ  دین میں قرآن عظیم کے ساتھ ساتھ سنت بھی قابلِ اتباع ہے جو کہ عملی و اعتقادی احکام کو شامل ہے اور وہ احکام خواہ واجب ہوں یا مندوب یا مباح)  برابر صحابۂ کرام کے ذہنوں میں واضح  و موجودتھا اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد بھی یہ بات ان کے یہاں واضح تھی، اور اس بات کے شواہد و ثبوت بہتیرے ہیں ، ان ثبوتوں میں سے چند یہ ہیں:

 

۱۔ قبیصہ بن ذؤیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: ’’میت کی نانی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس میراث میں اپنا حصہ دریافت کرنے آئی، تو انہوں نے کہا : اللہ کی کتاب (قرآن پاک) میں تمہارا کچھ حصہ نہیں ہے ، اور مجھے اللہ کے نبی ﷺ  کی سنت میں بھی تمہارے لیے کچھ نہیں معلوم ، تم جاؤ میں لوگوں سے دریافت کر کے بتاؤں گا ، پھر انہوں نے لوگوں سے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ  نے کہا :  میں رسول اللہ ﷺکے پاس موجود تھا ، آپ نے اسے چھٹا حصہ دلایا ہے‘‘۔(7)

 

۲۔ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے: ’’ہم اللہ کی کتاب اور اپنے نبی ﷺ کی سنت ایک عورت کے کہنے کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے، مجھے نہیں معلوم ممکن ہے انہوں نے یاد رکھا ہو یا وہ بھول گئی ہوں۔۔۔‘‘۔(8)

 

۳۔ شقیق بن سلمہ کا بیان ہے کہ: میں نے صبی بن معبد کو کہتے ہوئے سنا:’’میں نصرانی تھا ، پھر اسلام لے آیا اور حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا ، سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان نے مجھے قادسیہ میں عمرہ اور حج دونوں کا تلبیہ ایک ساتھ پکارتے ہوئے سنا ، تو دونوں نے کہا : یہ تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ نادان ہے ، ان دونوں کے اس کہنے نے گویا میرے اوپر کوئی پہاڑ لاد دیا ، میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ  کے پاس آیا ، اور ان سے اس کا ذکر کیا ، وہ ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ملامت کی ، پھر میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا : تم نے نبی ﷺ کی سنت کو پایا ، تم نے نبی ﷺ  کی سنت کو پایا ‘‘۔ (9)

 

۴۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا: ’’عنقریب کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو قرآنی شبہات کو لے کر تم سے بحث و مباحثہ کریں گے، تو تم سنتوں کے ذریعہ ان کی گرفت کرنا اس لیے کہ سنتوں کو جاننے والے ہی اللہ کی کتاب کے زیادہ جانکار ہوتے ہیں۔‘‘ (10)

 

۵۔عمر بن خطاب سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ شریح القاضی کے پاس اپنے بھیجے ہوئے نامہ میں لکھتے ہیں:’’اگر تمہارے پاس  کوئی ایسا واقعہ آئے جو قرآن میں ہو تو اسی پر فیصلہ کرو اور لوگوں کی وجہ سے اسے نہ چھوڑو، اور اگر تمہارے پاس ایسا مسئلہ آئے جو اللہ کی کتاب میں نہ ہو تو رسول اللہ  ﷺ کی سنت دیکھو اور اسی کے مطابق فیصلہ کرو، اور اگر تمہارے پاس ایسا مسئلہ آئے جو نہ اللہ کی کتاب میں ہو اور نہ رسول اللہ ﷺ کی سنت میں ہو تو دیکھو جس پر لوگوں نے اتفاق کیا ہو اسے لے لو۔۔۔۔۔۔‘‘(11)

 

۶۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ’’جب کوئی بات تم ہم سے اللہ تعالیٰ کی کتاب سے پوچھوگے کہ جسے ہم جانتے ہیں تو ہم تمہیں بتائیں گے، یا اللہ کے نبی ﷺ کی سنت سے پوچھوگے تو ہم تمہیں بتائیں گے، اور جو بات تم نے نئی نکالی ہو ہم اس پر قدرت نہیں رکھتے۔‘‘ (12)

 

۷۔ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا: ’’جب تم سے کسی مسئلہ کے بارے میں پوچھا جائے تو تم اللہ کی کتاب میں دیکھو، اگر تم اسے اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ تو رسول اللہ ﷺ کی سنت میں دیکھو،  پس اگر تم اسے رسول اللہ ﷺ کی سنت میں نہ پاؤ تو جس پر مسلمانوں کا اجماع ہے اسے لے لو۔۔۔۔)۔(13)

 

۸۔ سالم کہتے ہیں: ’’عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تمتع کے ذریعہ رخصت حاصل کرنے کا فتویٰ دیتے تھے  جس کے بارے میں اللہ نے نازل کیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے سنت قرار دیا ہے،  تو لوگوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: آپ اپنے والد کی مخالفت کیسے کر رہے ہیں؟ جب کہ انہوں نے اس سے روکا ہے، تو عبد اللہ ا بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: تمہاری بربادی ہو کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے! اگر عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے روکا ہے تو وہ اس میں خیر کے متلاشی ہیں اور اس کے ذریعہ اتمام عمرہ کو چاہتے ہیں، پس تم لوگ کیوں اسے حرام قرار دیتے ہو؟  اللہ نے تو اسے حلال قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس پر عمل کیا ہے، کیا رسول اللہ ﷺاس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ان کی سنت کی اتباع کی جائے یا عمر کی سنت کی اتباع کی جائے گی؟۔‘‘(14)

 

۹۔ جابر بن زید سے مروی ہے کہ دورانِ طواف میں ابن عمر رضی اللہ عنہما ان سے ملے تو انہوں نے ان سے کہا: ’اے ابو شعثاء! تم بصرہ کے فقہاء میں سے ہو تو تم فتویٰ نہ دو مگر یہ کہ قرآنِ ناطق یا نافذ ہونے والی سنت کے ساتھ فتویٰ بیان کرو، اس لیے کہ اگر تم اس کے سوا کروگے تو خود بھی ہلاک ہوگے اور لوگوں کو بھی ہلاک کروگے۔‘‘ (15)

 

۱۰۔ سالم بن عبد اللہ بن عمر سے مروی ہے کہ:’’حجاج بن یوسف جس سال عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑنے کے لیے اترا، تو اس موقع پر اس نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا :عرفہ کے دن وقوف میں آپ کیا کرتے ہیں ؟ اس پر سالم رحمہ اللہ بولے:  اگر تو سنت پر چلنا چاہتا ہے تو عرفہ کے دن نماز دوپہر ڈھلتے ہی پڑھ لینا ۔ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا :سالم نے سچ کہا ، بیشک وہ لوگ یعنی صحابۂ کرام سنت کے مطابق ظہر اور عصر ایک ہی ساتھ پڑھتے تھے ۔ میں نے سالم سے پوچھا  (سائل، سالم سے روایت کرنے والے راوی ابن شہاب ہیں): کیا رسول اللہ ﷺ  نے بھی اسی طرح کیا تھا ؟ سالم نے کہا: اور کس کی سنت پر اس مسئلہ میں چلتے ہو۔‘‘ (16)

 

      امام سیوطی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’سالم، جو مدینہ کے فقہاءِ سبعہ اور صحابۂ کرام سے روایت کرنے والے حفاظ تابعین میں سے ایک ہیں، نے بیان کیا کہ جب وہ لوگ سنت بولتے ہیں تو اس سے صرف نبی ﷺ کی سنت مراد لیتے ہیں۔‘‘ (17)

 

۱۱۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس وقت فرمایا جب ان سے ایک آدمی نے عرض کیا: آپ کی کیا رائے ہے، آپ کی کیا رائے ہے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اپنی رائے یمن میں رکھو، یہاں تو سب سنتیں ہیں۔‘‘ (18)  یعنی رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ دین ماثور ہے۔

 

۱۲۔ عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ: ’ابن عباس رضی اللہ عنہما میرے پاؤں میں بیڑی یعنی زنجیر ڈال دیتے تھے اور مجھے قرآن و سنن کی تعلیم دیتے۔‘‘ (19)

 

۱۳۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں: ’’لوگوں  پر ایک ایسا دور آئے گا کہ جس سال  میں ایک بدعت ایجاد کریں گے اسی سال ایک سنت مردہ ہو جائے گی، یہاں تک کہ بدعتیں پروان چڑھیں گی اور سنتیں مردہ ہو جائیں گی۔‘‘ (20)  

 

۱۴۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ’’سنت کی مخالفت کرنے والے کے لیے خواہش نفس برحق ہے اور گرچہ تم اس میں اس کی گردن مار دو(21)

 

۱۵۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: ’’تمہارے اوپر سیدھی راہ اور سنت کا لازم پکڑنا  ضروری ہے،  اس لیے کہ جو بندہ سیدھی راہ اور سنت نیز رحمٰن کے ذکر پر ہوتا ہے تو اللہ عز و جل کی خشیت و ڈر سے اس کی آنکھیں تر ہوتی ہیں اور وہ عذاب نہیں دیا جاتا۔‘‘ (22)

 

حواشی:

 

 

 

(1)        أخرجه مسلم، كتاب الإمارة، باب ثبوت الجنة للشهيد، رقم ( 4917) .

 

(2)        أخرجه مسلم ، كتاب الفضائل ، باب من فضائل أبي عبيدة بن الجراح - رضي الله عنه -، رقم    ( 6253) .

 

(3)       أخرجه مسلم، كتاب الصلاة ، باب التشهد في الصلاة ، رقم ( 904) .

 

(4)       أخرجه أبو داود ، كتاب الأقضية ، باب اجتهاد الرأي في القضاء ، رقم ( 3592) ، والترمذي ، كتاب الأحكام ، باب ما جاء في القاضي كيف يقضي ، رقم ( 1327) ، وأحمد في المسند ( 5/230) ، والدارمي في سننه ، المقدمة ، باب الفتيا وما فيها من الشدة ، رقم (170) والبيهقي في الكبرى، كتاب أدب القضاء، باب ما يقضي به القاضي ويفتي به المفتي 10/114، اورابن قیم نے " إعلام الموقعين " ( 1/243-244)  میں صحیح قراردیا ہے، اورابن کثیر اپنی تفسیر( 1/3) میں رقم طراز ہیں: یہ حدیث مسند اورسنن میں جید سند کے ساتھ مروی ہے،اوراسے بخاری ،ابن الجوزی اور ابن حزم وغیرہ نے ضعیف قراردیا ہے۔

 

وقال ابن كثير في تفسيره ( 1/3) ، وهذا الحديث في المسند والسنن بسند جيد، وضعفه البخاري وابن الجوزي وابن حزم وغيرهم .

 

(5)        أخرجه ابن ماجه ، كتاب الزكاة ، باب ما تجب فيه الزكاة من الأموال ، رقم ( 1815) .

 

(6)        أخرجه أحمد في المسند ( 5/165) ، والدارمي ، المقدمة ، باب البلاغ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وتعليم السنن ، رقم ( 549) .

 

(7)        أخرجه أبو داود ، كتاب الفرائض ، باب في الجدة، رقم ( 2894) ، والترمذي، كتاب الفرائض، باب ما جاء في ميراث الجدة، رقم ( 2100) اورفرمایا کہ:یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

 

(8)        أخرجه مسلم ، كتاب الطلاق ، باب المطلقة البائن لا نفقة لها، رقم ( 3710) .

 

(9)        أخرجه ابن ماجه ، كتاب المناسك ، باب من قرن الحج والعمرة ، رقم ( 2970) .

 

(10)      أخرجه الدارمي ، المقدمة ، باب التورع عن الجواب فيما ليس فيه كتاب ولا سنة ، رقم ( 119) .

 

(11)      أخرجه الدرامي، المقدمة ، باب الفتيا وما فيه من الشدة ، رقم ( 167) .

 

(12)      أخرجه الدارمي ، المقدمة ، باب التورع عن الجواب فيما ليس فيه كتاب ولا سنة ، رقم ( 101) .

 

(13)      أخرجه الدارمي ، المقدمة ، باب الفتيا وما فيه من الشدة ، رقم ( 169) .

 

(14)     أخرجه أحمد في مسنده ( 2/95) .

 

(15)      أخرجه الدارمي ، المقدمة ، باب الفتيا وما فيه من الشدة ، رقم ( 164) .

 

(16)     أخرجه البخاري ، كتاب الحج، باب الجمع بين الصلاتين بعرفة ، رقم ( 1662) .

 

(17)     تدريب الراوي 1/189.

 

(18)     الشرح والإبانة ص 126.

 

(19)     خرجه الدارمي، المقدمة، باب البلاغ عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وتعليم الناس السنن ، رقم ( 559) .

 

(20)     البدع لابن وضاح ص 38.

 

(21)      الشرح والإبانة ص 122.

 

(22)    أخرجه أبو نعيم في الحلية ( 1/352-353 ) واللالكائي في شرح أصول الاعتقاد ( 1/54رقم 10 ).

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث