باب:سنتِ نبویہ کا مقام و مرتبہ(سنت نبوی کی حیثیت)

حلقہ (11):  (سنت کے اطلاق  کے بارے میں) ایک سوال اور اس کا جواب

بعض حضرات ہم سے (سنت سے متعلق)ان تمام نصوص ودلائل کو  طوالت کے ساتھ ذکر کرنے کے سلسلے میں سوال کرسکتے ہیں،لیکن اس  سلسلے میں ہمارا عذر یہ ہے کہ:ان  نصوص ودلائل سے عدم واقفیت  اور ان کی صحیح مراد  نہ سمجھ پانے کی وجہ سے بہت سارے تہذیب یافتہ حضرات اور طلبۂ علم خطرناک منہجی غلطی میں واقع ہوگئے ہیں ،جب انھوں نے سنّت کو فقہاء  کے مفہوم میں محصور کردیا ، اور وہ فرض یا واجب کے مقابل ہے ،یعنی جس کے کرنے والے کو ثواب دیا جاتا ہے اور چھوڑنے پر کوئی سزا نہیں ہوتا ۔اوریہ بعدکی اصطلاح ہے، جس پر سنّت کا اطلاق کرنا صحیح نہیں ہے،کیونکہ یہ ایک ایسی گروہ کے ساتھ خاص ہے جس کا کام مکلفین کے افعال کے بارے میں شرعی احکام کی معرفت حاصل کرنا ہے، اورپھر ان  کی تحقیق کے مطابق تعریف  کرنا ہے۔

شیخ عبد الفتاح ابوغدّہ فرماتے ہیں: یہ بات معلوم ہے کہ سنت کا لفظ ان فقہی اصطلاحات میں سے ہے جو  فقہاء  کے کلام اور کتب فقہ میں برابر درج ہے، اور یہ ان کے ہاں واجب یا فرض کے مقابل ہے،اور اس فقہی اصطلاح  کا ظہور ورواج عہد تابعین کے بعد دوسری  صدی اور ا س کے بعد میں ہوا۔‘‘  

اوربعض فقہاء  مذاہب سے ان دونوں معنوں کے درمیان خلط واقع ہوا ہے، چناں چہ انھوں نے  نبیﷺ کے کلام،یا صحابہ وتابعین کے  کلام میں وارد لفظ سنّت  کو متاخر اصطلاحی معنیٰ  کرکےاس عمل کے مسنونیت کی دلیل قائم کردی جس کے بارے میں ترغیب آئی ہے،اور یہ  غلط ہے جس پر تنبیہ ضروری ہے،کیوں کہ احادیث نبویہ میں یا صحابہ وتابعین کے کلام میں وارد لفظ ’’سنّت‘‘  عام  شرعی معنیٰ میں  اصل سمجھا جاتاہے، چناں چہ وہ اعتقادات،عبادات، معاملات ،اخلاق اور آداب وغیرہ کو شامل ہوتا ہے۔

اوراس میں فرض ،واجب اور  ہرمرغوب  ومستحب اور مشروع اقوال وافعال داخل ہیں، علامہ شیخ عبد الغنی النابلسی رحمہ اللہ (الحدیقۃ الندیہ شرح طریقۃ المحمدیۃ) میں فرماتے ہیں :

’’آپﷺ کی سنّت آپ کے اقوال،افعال،اعتقادات،اخلاق  اور کسی غیر کے قول  یافعل کے وقت سکوت اختیار کرنے کانام ہے۔‘‘اھ۔

اور فقہاء کے کلام اور کتب فقہ میں وارد لفظ’’ سنّت‘‘ خاص اصطلاحی معنیٰ میں ہی اصل سمجھا جاتا ہے اور جس کی انھوں نے یہ تعریف  کی ہے کہ وہ واجب یا فرض کے مقابل ہو، لہذا دونوں معنوں اور دونوں کے   استعمال کے درمیان فرق ظاہر ہے،اور زبانِ نبوت  یا صحابہ وتابعین کے کلام میں لفظ ’’سنّت ‘‘کے وارد ہونے سے  کسی عمل کی مسنونیت پر دلیل پکڑنا واضح غلطی ہے۔

.... پھر انہوں نے فرمایا: اور بخاری نے   اپنی صحیح میں کتاب اللباس، باب  :قصّ الشارب (مونچھ کانٹنا)میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت کیا ہے کہ:’’فطرت (کے خصائل)پانچ ہیں۔ یا پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں۔: ختنہ کرانا، زیرناف بال مونڈنا،بغل کے بال اکھاڑنا،ناخن  تراشنا، اور مونچھ  کٹوانا۔‘‘

  حافظ ابن حجررحمہ اللہ ( فتح الباری)(1) میں  ختان کے احکام کی  وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’شافعی اور ان کے اکثر اصحاب مذکورہ بالا پانچ خصلتوں میں سے ختنہ کو  مرد اور عورت دونوں کے لیے  برابرواجب قرار دیتے ہیں،اور شافعیہ کے ایک قول کے مطابق: عورت کے لیے ختنہ واجب نہیں ہے۔

جب کہ اکثر علما اور بعض شافعی حضرات اسے واجب   کے بجائے سنت قراردیتے ہیں، اور ان کی دلیل شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث ہے: (الختان سنة للرجال مكرمة للنساء) (2).

’’ختنہ کرانا مردوں کے حق میں  سنّت ہے اور عورتوں کے لیے اعزاز واکرام ہے۔‘‘

لیکن اس میں  (سنت  ہونےکی) کوئی دلیل نہیں ہے، کیوں کہ یہ بات طے پاچکی ہے کہ لفظ ’’سنّت‘‘ جب حدیث میں وارد ہو تو اس سے واجب کےمقابل نہیں مراد ہوتی،لیکن  چوں کہ اس  میں مردوں اور عورتوں کے درمیان  تفریق    واقع ہوئی  ہے لہذا اس بات پر دال ہے کہ حکم مختلف ہے، اور شدّاد کی حدیث ضعیف ہے۔

اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بعض روایات:(خمس من الفطرة: الختان، والاستحداد، ونتف الإبط، وتقليم الأظفار، وقص الشارب) میں لفظ ’’فطرت‘‘ کے بجائے (خمس من السُنّة)آیا ہوا ہے تو یہاں سنّت سے مراد طریقہ ہے، نہ کہ اس کی مقابل واجب ہے،اورشیخ ابو حامد غزالی اور ماوردی وغیرہ  جزمی طور پر اسی بات کے قائل ہیں،اور ان کا کہنا ہے کہ: یہ دوسری حدیث(عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين) کی طرح ہےـ‘‘ حافظ ابن حجر کی بات ختم ہوئی۔

پس حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی بات:’’اوریہ طے پاچکی ہے کہ لفظ ’’سنّت‘‘ جب حدیث میں وارد ہو تو اس سے اس کی مقابل واجب مراد نہیں ہوتی۔‘‘ صریح دلیل ہے،بلکہ موضوع پر بولتا قاعدہ ہے۔

اس لیے طالب علم   کو اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے،تاکہ حدیث میں واردلفظ ’’سنّت‘‘ کو فقہاء کی طرح مسنونیت کے معنیٰ پر نہ استدلال کر بیٹھے، جیسا کہ حدیث(الختان سنة للرجال... )’’ختان مردوں کے لیے مسنون ہے‘‘ کی شرح میں اس کا بیان گذر چکا۔  

لہذا حدیث نبوی اور صحابہ وتابعین کے کلام میں لفظ’’سنّت‘‘سے مراد:

دین میں مشروع اورمتبعہ(جس کی پیروی کی جائے) طریقہ ہے، نہ کہ جو فرض یا واجب کے مقابل ہے ،اور جو فقہاء کے نزدیک ’’سنّت‘‘ کے اصطلاحی معنیٰ میں ہے۔ (4)

  یہی ان تمام  نصوص(دلائل) کے  ذکر کرنے کی پہلی وجہ  تھی،اور جو پیش کی جا چکیں اوران کے متعلق علماء  کے  فہم کی وضاحت  کی جا چکی۔

اوران دلائل کو طوالت سے ذکر کرنے کی دوسری وجہ: مستشرقین اور ان کے ہمنواؤں کے کھوٹ وفریب کو بے نقاب کرنا ہے، جو ان دلیلوں سے چشم پوشی کرتے ہیں، بلکہ اپنے گٹھیا مقاصد کے پیش نظر ان کو ان کے سیاق سے کتربیونت کرتے ہیں، یعنی سنّت  میں طعن پیدا کرتے ہیں،اور اسے معتمداسلامی مصدر نہیں تسلیم کرتے جس پر دین کا مدار ہو۔

اور ہم عنقریب اس اصطلاح(سنّت)کے بارے میں ان کے شبہات کو بیان کریں گے،لیکن اس سے پہلے ہم سنت کی اصطلاحی تعریف ،اوراس تعریف کی شرح، حدیث ، خبر اوراثر سے سنت کے تعلقات  کی وضاحت کریں گے۔ اور یہ  اللہ  تعالیٰ کی توفیق ہی سے ہے۔

حواشی:

 

(1)  فتح الباري (10/340).

(2)  اسے احمد ((5/75))  اوربیہقی  نے السنن الکبری(8/325) میں روایت کیا ہے، اور یہ ضعیف ہے، ملاحظہ فرمائیں: نيل الأوطار (1/183-184).

 (3) شوکانیؒ  نیل الأوطار (1/184)  میں  کہتے ہیں :’’اور چونکہ حدیث احتجاج  کے لائق نہیں ہے،اس لیے اس میں مقصود کے بارے میں کوئی حجت ودلیل نہیں ہے،اس لیے کہ لفظ سنّت شارع کی زبان میں اصولیوں کے اصطلاحی سنّت سے عام  ہے۔ میں کہتا ہوں: شاید وہ فقہاء مراد  لیے ہیں، کیونکہ فقہاء ہی مکلفین کے افعال کے مطابق شرعی احکام کوتلاش کرتے ہیں۔‘‘     

 (4)    السنة النبوية وبيان مدلولها الشرعي ص: 9، 10، 18، 19.

 

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث