حلقہ(۱)

آدم علیہ السلام کی پیدائش کا قصّہ

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا : ‘‘کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کوپیداکیا، اور ان (کے قد) کی لمبائی ساٹھ گزتھی، پھراللہ تعالی ٰنےفرمایاجاؤ اور فرشتوں کو سلام کرو اور جو کچھ وہ جواب دیں اسے غور سے سنو! وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا، حضرت آدم علیہ السلام نےفرشتوں کےپاس جاکرکہا السلام علیکم، فرشتوں نےجواب میں کہا السلام علیک ورحمۃاللہ، اور لفظ و رحمۃاللہ زیادہ کیا، پس جو شخص بھی جنت میں داخل ہوگاوہ آدم علیہ السلام کی صورت پرہوگا، (آدم علیہ السلام ساٹھ گزکےتھےلیکن اب تک مسلسل آدمیوںکا قد کم ہوتا رہا)’’ (1)

شرحِ مفردات:

(آدَمَ) : سے مراد انسانوں کے با پ ہیں۔اور (الأدمة) : کے معنی گندمی رنگ  کے ہوتے ہیں، آدمُ: گندمی رنگ کا انسان، اسکی جمع أُدُمان ہے،آدم: گہرے سفید رنگ کا اونٹ ،یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا مطلب گہرے سفید رنگ اور سیاہ پتلیوں والا اونٹ ہے۔ اونٹ کو تو آدَم کہتے ہیں اور اونٹنی کو أدماء کہتے ہیں اور اس کی جمع أُدُمٌ ہے۔(2)

(ذِرَاعًا): ذراع سے مراد ہاتھ کا بازو ہے، اور یہ لفظ مذکرومؤنث دونوں استعمال ہوتا ہے۔اور یہ: کہنی  کے  کنارے سے لے کر درمیانی انگلی کے کنارے  کے مابین کا حصہ ہوتا ہے(3)

(سِتُّونَ ذِرَاعًا) ساٹھ  ہاتھ، ابن تین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ :اس سے مراد ہمارے بازو ہیں ؛کیونکہ ہرشخص کا بازو اسکے جسم کے چوتھائی کے مثل ہوتا ہے، اور اگر  انکے بازو ہوتے تو انکے جسم کے بالمقابل  انکا ہاتھ چھوٹا ہوتا۔

(يُحَيُّونَكَ):فعل مضارع  کا صیغہ ہے جو تحیۃ سے ہے او ر اسکے معنی سلام   کے ہیں۔ ارشاد باری ہے: ((وإذا حييتم بتحية فحيوا بأحسن منها أو ردوها إن الله على كل شيء حسيبًا)), [سورة النساء: 86].

‘‘اور جب تمہیں سلام کیاجائے تو تم اس سےاچھا جواب دو یاانہی الفاظ کولوٹا دو، بلا شبہ اللہ تعالی ٰہرچیزکا حساب لینےواہے’’۔

ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :‘‘یعنی: جب مسلمان شخص تم سے سلام کرے تو تم اس سے بہترجواب دو،یا اسی کے مثل لوٹادو’’۔(4)

(ذُرِّيَّتكَ): ذرأ:کے معنی پیدا کرنا، اور اسی سے ذرّیت ہے، اور اس سے مراد : انس وجن کی نسل ہے، اور آدمی کی ذرّیت سے مراد:اسکے بچے ہیں ۔اورذریۃ کا جمع: ذراری  وذاریات ہے(5)

(السَّلَامُ):  اسم ہے تسلیم سے،اور سلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔(6)

(الْخَلْقُ): یعنی مخلوق، اور اس سے مراد اولاد آدم ہیں۔

(يَنْقُصُ):یہ نقص الشیء   سے ہے جونصر کے باب سے ہے، اور یہ متعدی اور لازم دونوں ہوتا ہے(7)

شرح ِحدیث(8):

اس حدیث میں آدم علیہ السلام  کے پیدائش کی طرف اشارہ ہے، اوریہ  کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنےدونوں معزّز ہاتھوں سے پیدا کیا  ،اور (آدم) کوساٹھ ہاتھ لمبا بنایا،اور یہ اپنی اولاد کی طرح پرورش میں متعدد احوال سے نہیں گزرے، بلکہ اللہ  تعالیٰ نے انہیں اس شکل پر پیدا فرمایا ہے جس پر وہ  ہیں۔(یعنی اسکی اپنی صورتِ اصلی پر بنایا)۔

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اس ہیئت پر وجود دیا جس پر اسکی پیدائش کی ہے،اور پرورش میں کئی احوال میں منتقل نہیں ہوئے،اور نہ ہی رحم میں اپنی ذرّیت کی طرح کئی اطوار ومراحل طے کئے،بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر روح پھونکنے کے شروع ہی میں انہیں کامل انسان بنایا۔

(فَكُلّ مَنْ يَدْخُل الْجَنَّة عَلَى صُورَة آدَم)پس جو شخص بھی جنت میں داخل ہوگاوہ آدم علیہ السلام کی صورت پرہوگا: یعنی ان کی صفت میں،اور یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جنت میں داخل ہوتے وقت نقص وکمی کی ساری صفات جیسے کالا پن وغیرہ سب ختم ہوجائے گا۔اور امام احمد کے نزدیک سعیدابن مسیب کے طریق سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: ‘‘کہ آدم علیہ السلام ساٹھ گزلمبے اور ساٹھ گز چوڑے تھے’’۔ (9)

(فَلَمْ يَزَل الْخَلْقُ يَنْقُص حَتَّى الْآن)تو برابرمخلوق آج تک ناقص پیدا ہورہی ہے یعنی:ہرصدی میں لمبائی پہلی صدی کےمقابلے میں کم ہوتی چلی آرہی ہے، اور لمبائی کی یہ کمی آکر امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر ٹہر گئی ہے۔

اورعلامہ ابن التین " فَلَمْ يَزَل الْخَلْق يَنْقُص "کی شرح میں کہتے ہیں: مطلب جس طرح آدمی آہستہ آہستہ بڑھتا رہتا ہے،اوریہ دو دن یا دو گھڑیوں میں معلوم نہیں ہوتا یہاں تک کہ کئی دن گزرجانے کے بعد ہی اسکا پتہ چل پاتا ہے، ٹھیک یہی حکم نقص گھٹنے کا ہے۔اور اس قول پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ موجودہ وقت میں گزری قوموں مثل دیار ثمود کی جو آثار پائی جاتی ہیں،کیونکہ ان کے مساکن اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کے قدوقامت سابقہ ترتیب کے تقاضے کے مطابق بہت زیادہ لمبے نہیں تھے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا زمانہ بہت پرانا ہے،اور ان کے اور آدم کے بیچ کا زمانہ، ان کے اور اس امت کے پہلے لوگوں کے زمانے سے کم ہے۔

(ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں): ‘‘کہ مجھے آج تک اس اشکال کا حل سمجھ میں نہیں آیا’’۔

فوائدِ حدیث:

۱۔ اللہ تعالی ٰ کی قدرت کاملہ اور حکمتِ بالغہ کا اظہار پایاجاتا ہے، اور وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتاہے پسند فرماتا ہے۔

۲۔سلام کی مشروعیت، اوریہ آدم علیہ السلام سے لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور انکی امت کا تحیّہ وسلام ہے۔

۳۔اس حدیث میں انسانی اصل کے سلسلے میں پائی جانے والی باطل(اٹکل پچو)مغربی نظریات کے فساد کی دلیل ہے،اور شرعی نصوص نے اس چیز کو نہایت ہی صراحت کے ساتھ بیان فرمایاہے،جیسا کہ اس حدیث میں ہے اور اسکے علاوہ دیگر(احادیث میں) ہے۔

 

حواشی:

(1) صحيح البخاري، برقم: (3326), وصحيح مسلم، ح: ( 2841).

(2) مختار الصحاح للرازي، ص:10.

(3) مختار الصحاح، ص: 221، ولسان العرب 5/ 447. حرف العين، فصل الذال.

(4) تفسير ابن كثير، 2/324.

(5) مختار الصحاح للرازي، ص: 220-221 بتصرف.

(6) المرجع السابق، ص: 311.

(7) مختار الصحاح للرازي، ص: 676 بتصرف.

(8)دیکھیں: فتح الباري شرح صحيح البخاري للعسقلاني، 6 / 367.

(9) اسے احمد نے روایت کیا ہے، 2/ 535، اور علامہالبانینےاسے صحیحکہاہے،، مشكاة المصابيح رقم 5736 .

 

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث